بنیادی تعلیم کا معیار ایک بار پھر تشویشناک قرار دیا گیا

بنیادی تعلیم کا معیار ایک بار  پھر تشویشناک قرار دیا گیا

ملتان (خصوصی رپورٹر)پاکستان میں بنیادی تعلیم کا معیار ایک بار پھر تشویشناک قرار دیا گیا ہے ۔

 تازہ ترین تعلیمی جائزے کے مطابق پانچویں جماعت کے صرف 52اشاریہ3 فیصد طلبہ ہی دوسری جماعت کی سطح کی اردو، سندھی یا پشتو زبان میں لکھی گئی سادہ کہانی روانی سے پڑھ سکتے ہیں جبکہ تقریباً نصف بچے اس بنیادی مہارت سے بھی محروم ہیں۔ یہ انکشاف گیلپ پاکستان کے تجزئیے میں کیا گیا ہے ، جو اے ایس ای آر نیشنل سروے 2025 کے نتائج پر مبنی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پانچویں جماعت کے 56.3 فیصد طلبہ دوسری جماعت کی سطح کے انگریزی جملے پڑھ سکتے ہیں، جبکہ صرف 49.6 فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم کا سوال حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیسری جماعت کے طلبہ کی صورتحال مزید تشویشناک ہے ، جہاں صرف 12.4 فیصد بچے دوسری جماعت کی سطح کی کہانی پڑھ سکتے ہیں، 13.8 فیصد انگریزی جملے پڑھنے کے قابل ہیں اور صرف 9.1 فیصد طلبہ دو ہندسوں کی تقسیم حل کر سکتے ہیں۔ سروے میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جس کے مطابق نجی سکولوں کے طلبہ عمومی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، تاہم مجموعی تعلیمی معیار اب بھی تسلی بخش نہیں۔ اے ایس ای آر نیشنل سروے 2025 اکتوبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران ملک کے 138 اضلاع، ایک لاکھ 17 ہزار سے زائد گھروں اور ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں پر کیا گیا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق نتائج اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ معیاری تدریس، تربیت یافتہ اساتذہ، مؤثر نصاب اور مسلسل نگرانی کے ذریعے بنیادی تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جائے ، ورنہ خواندگی اور حسابی صلاحیتوں کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں