رہائشی آبادی میں غیرقانونی فیکٹری، شہری شدید پریشان
ہیوی مشینری کے استعمال سے قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ اہل علاقہ کا شدید احتجاج، فیکٹری کو رہائشی علاقے سے منتقلی کا مطالبہ
میاں چنوں (تحصیل رپورٹر) میاں چنوں کے نواحی گاؤں 126/15 ایل پل والی میں رہائشی آبادی کے اندر قائم مبینہ غیر قانونی سیمنٹ پولز بنانے والی فیکٹری کے خلاف اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں چلنے والی بھاری مشینری کے شور، گرد و غبار اور جنریٹر سے اٹھنے والے دھوئیں نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ ان کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث بچوں، بزرگوں اور خواتین میں سانس، الرجی اور دیگر بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ مسلسل کمپن اور ہیوی مشینری کے استعمال سے قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ رہائشی علاقے میں ایسی فیکٹری قائم کرنے کی اجازت نہیں، تاہم بااثر عناصر کی مبینہ پشت پناہی کے باعث یہ یونٹ بلاخوف کام کر رہا ہے ۔ متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر ماحولیات، کمشنر ملتان اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر فیکٹری کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ، اسے رہائشی علاقے سے منتقل کیا جائے اور ماحول کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ اہل علاقہ کو اس اذیت سے نجات مل سکے ۔