بچوں میں ایچ آئی وی کا معاملہ، دو ڈاکٹرز معطل، 37 ملازمین کو شوکاز نوٹس
سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کی ابتدائی انکوائری کی روشنی میں کارروائی،ملازمین سے 14روز میں جواب طلب ڈسپنسر بھی فارغ،دونوں ڈاکٹرز پر غفلت، بدانتظامی اور طبی ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سائٹ ایریا میں قائم کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے میں غفلت برتنے پر 2 ڈاکٹرز کو معطل جبکہ 37 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) نے ابتدائی انکوائری کی روشنی میں 2 ڈاکٹرز کو معطل، ایک ڈسپنسر کو عہدے سے ہٹا دیا جبکہ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی و انتظامی عملے سمیت مجموعی طور پر 37 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب طلب کرلیا ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق معطل کیے جانے والوں میں ڈاکٹر ہما امان اور ڈاکٹر امان اللہ میمن شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اپنے عہدوں سے ہٹا کر سیسی ہیڈ آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انکوائری کمیٹی نے دونوں ڈاکٹرز پر غفلت، بدانتظامی اور طبی ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اسی طرح ڈسپنسر بشارت خان کو بھی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر 37 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے ۔واضح رہے کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ یا غیر محفوظ طریقے سے استعمال کی گئی سرنجوں کے باعث درجنوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے ہیں۔سندھ کے وزیر محنت سعید غنی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ اسپتال سے علاج کرانے والے 78 بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے ۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سنگین غفلت میں ملوث کسی بھی ڈاکٹر، افسر یا طبی عملے کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔معاملے کی سنگینی کے پیش نظر سندھ ہائی کورٹ بھی اس کیس کی سماعت کر رہی ہے جہاں عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران حکومت سندھ کو دو ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا، جس میں یہ واضح کرنے کی ہدایت کی گئی کہ وائرس کس طرح پھیلا، ذمہ دار کون ہیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ابتدائی تحقیقات میں اسپتال کے انفیکشن کنٹرول نظام، سرنجوں کے استعمال، طبی فضلے کی تلفی اور نگرانی کے طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔محکمہ صحت اور سیسی کی مختلف ٹیمیں واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کی اصل وجوہات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے ۔