ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی سخت کرنے کا حکم
فیلڈ افسر عوامی مسائل حل کریں،فیلڈ آراء پالیسی سازی میں شامل کی جائے ، کامیاب اقدامات کو ماڈل بنایا ، فلٹریشن پلانٹس فوری فعال کئے جائیں، اے سی سی کا کمشنر آفس کا دورہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت روزانہ50ہزار 501ٹن ویسٹ کلیکشن، 937 فلٹریشن پلانٹس میں سے 733 فعال ، اپنی چھت اپنا گھر کے تحت3ہزار892گھرمکمل، بریفنگ
ملتان (وقائع نگار خصوصی)ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب افتخار علی سہو نے کمشنر آفس ملتان کا دورہ کیا، جہاں کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے انہیں ڈویژن کے انتظامی، ریونیو، ترقیاتی، بیوٹیفکیشن اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجیحی اقدامات پر جامع بریفنگ دی۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں، معیار اور رفتار کا جائزہ لے کر باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں جبکہ فیلڈ افسران عوامی مسائل کے حل کیلئے دفاتر کے بجائے فیلڈ میں موجود رہیں۔افتخار علی سہو نے کہا کہ پالیسی سازی صرف فائلوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ زمینی صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔ فیلڈ افسران کی عملی آرا اور تجاویز کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے اور کامیاب فیلڈ اقدامات کو دیگر ڈویژنز کیلئے ماڈل کے طور پر اپنایا جائے ۔
ہر پروگرام کے بعد فیلڈ سے فیڈ بیک لے کر آئندہ کی حکمت عملی مزید مؤثر بنائی جائے ۔صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے ہدایت کی کہ صاف پانی اتھارٹی تمام واٹر فلٹریشن پلانٹس فوری ٹیک اوور کرے اور غیر فعال پلانٹس کی بحالی یقینی بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ، اس لیے فلٹریشن پلانٹس کی فعالیت اور مؤثر آپریشن پر خصوصی توجہ دی جائے ۔کمشنر عامر کریم خاں نے بتایا کہ چاروں اضلاع میں سُتھرا پنجاب، صاف پانی، اپنا کھیت اپنا روزگار اور اپنی چھت اپنا گھر سمیت مختلف پروگرام جاری ہیں۔ سُتھرا پنجاب کے تحت روزانہ 50,501 ٹن ویسٹ اکٹھا کیا جا رہا ہے ، جبکہ 20,480 افرادی قوت اور 4,092 مشینری دستیاب ہے ۔ 937 فلٹریشن پلانٹس میں سے 733 فعال ہیں۔ اپنا کھیت اپنا روزگار پروگرام کے تحت 758 لاٹس میں سے 677 کی بیلٹنگ مکمل، 511 لیز ڈیڈز تقسیم اور 489 لاٹس کا قبضہ دیا جا چکا ہے ۔ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام میں 87,792 درخواستوں میں سے 10,181 منظور، 3,892 گھر مکمل اور 1,540 زیر تعمیر ہیں۔ریونیو شعبے میں 32,375 کھیوٹ مسائل میں سے 20,753 حل کیے گئے ، 240,784 میوٹیشن مسائل میں سے 73,820 نمٹائے گئے جبکہ 287,239 مسنگ میوٹیشنز میں سے 191,628 حاصل کی جا چکی ہیں۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کیلئے موصولہ 4,635 درخواستوں میں سے 2,880 منظور ہوئیں۔ مواضعات کی ڈیجیٹائزیشن، ماس لیول پارٹیشن، کمپلینٹ مینجمنٹ اور پی ایل آر اے سے متعلق اصلاحات بھی جاری ہیں۔پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے 14 پیکیجز کی مجموعی لاگت 80 ارب روپے جبکہ اوپن سورس ریونیو کے تحت 40 ترقیاتی سکیموں کی لاگت 6,569 ملین روپے ہے ۔ بیوٹیفکیشن کی 7 سکیموں پر 1,749 ملین روپے خرچ ہوں گے ۔ گھنٹہ گھر تا حسین آگاہی بازار سکیم 90 فیصد اور برانڈ روڈ ملتان سکیم 78 فیصد مکمل ہو چکی ہے ۔ای بس سروس کیلئے مختص 220 بسوں میں سے 75 موصول ہو چکی ہیں، جن میں ملتان 45، خانیوال 9، وہاڑی 10 اور لودھراں کی 11 بسیں شامل ہیں۔ مزید 145 بسیں جلد موصول ہوں گی۔ ملتان میں بسیں جلد آپریشنل کی جائیں گی جبکہ دیگر اضلاع میں سروس جاری ہے ۔اجلاس میں نادرآباد پھاٹک تا انڈسٹریل اسٹیٹ فلائی اوور، 200 بیڈڈ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال، نشتر کینسر سنٹر، ملتان ایونیو، دہلی ملتان روڈ، قلعہ کہنہ قاسم باغ اور ماڈل ای رجسٹریشن دفاتر کو ارضی سہولت مرکز میں تبدیل کرنے سمیت اہم منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments