نجی اکیڈمیوں اور ٹیوشن سینٹرز کی نگرانی بھی لازم قرار
ترمیمی ایکٹ گزٹ میں شائع، نجی تعلیمی ادارے حکومتی ضابطہ کاری کے تابع
ملتان (خصوصی رپورٹر) پنجاب حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے حوالے سے اہم پیش رفت کرتے ہوئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے متعلق ترمیمی ایکٹ 2026 نافذ کر دیا ہے ۔ نئے قانون کے تحت نجی سکولوں کے ساتھ پرائیویٹ اکیڈمیوں، کوچنگ سینٹرز اور ٹیوشن سینٹرز کو بھی حکومتی ضابطہ کاری کے دائرے میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ ترمیمی ایکٹ پنجاب اسمبلی سے منظوری اور گورنر پنجاب کی توثیق کے بعد 10 ستمبر 2026 کو پنجاب گزٹ میں شائع کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق قانون میں ترامیم کا مقصد نجی شعبے میں جاری مختلف تعلیمی سرگرمیوں کو ایک منظم قانونی فریم ورک کے تحت لانا اور ان اداروں کی نگرانی کا نظام مؤثر بنانا ہے ۔ نئے قانون کے بعد اکیڈمیوں، کوچنگ اور ٹیوشن سینٹرز کو بھی مقررہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔ترمیمی ایکٹ کے تحت حکومت پنجاب کو نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی، ضابطہ کاری اور تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق ضروری ہدایات جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے ۔ حکومت ضرورت کے مطابق ان اداروں کے لیے قواعد، ہدایات اور ضابطہ اخلاق بھی مرتب یا جاری کر سکے گی۔تعلیمی حلقوں کے مطابق اکیڈمیوں اور ٹیوشن سینٹرز کو قانونی دائرے میں شامل کرنا اہم فیصلہ ہے ، کیونکہ بڑی تعداد میں طلبہ میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور دیگر امتحانات کی تیاری کے لیے ان اداروں سے استفادہ کرتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے واضح قواعد، شفاف نگرانی اور قابلِ عمل ضوابط ضروری ہیں تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہونے کے ساتھ طلبہ کے مفادات کا بھی تحفظ ہو سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments