فنی تعلیم کا پورا نظام تبدیل،نئے قوانین نافذ کرنے کی تیاریاں
ٹیکنیکل ایجوکیشن اتھارٹی ، ووکیشنل ٹریننگ کونسل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ سے متعلق موجودہ قوانین ختم کرکے نیا انتظامی و قانونی ڈھانچہ متعارف کرانے کی تجویزپر غور
ملتان (خصوصی رپورٹر) پنجاب میں فنی تعلیم اور ہنرمندی کا پورا نظام تبدیل کرنے کی تیاری، (ٹیوٹا)، ووکیشنل ٹریننگ کونسل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ کے نئے قوانین تیار تفصیل کے مطابق پنجاب میں فنی تعلیم اور ہنرمندی کا پورا نظام تبدیل کرنے کی تیاری پنجاب میں فنی تعلیم اور ہنرمندی کے موجودہ نظام میں بڑی انتظامی و قانونی تبدیلیوں کی تیاری کرلی گئی ہے ، جس کے تحت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا)، ووکیشنل ٹریننگ کونسل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ سے متعلق موجودہ قوانین ختم کرکے نیا انتظامی و قانونی ڈھانچہ متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے تاہم ٹیوٹا اور ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے انضمام کے عمل میں مالی، قانونی اور انتظامی رکاوٹیں سامنے آگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں اداروں کے انضمام کی صورت میں ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کو یکساں کرنے سے صوبائی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے ٹیوٹا اور ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے سروس رولز، ترقی کے معیار، عہدوں کی ساخت اور تنخواہی ڈھانچے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس کے باعث فوری انضمام کی صورت میں ملازمین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے متعلقہ حکام نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ دونوں اداروں کے ملازمین کی موجودہ شرائطِ ملازمت کو یکساں کیے بغیر انضمام کی صورت میں سروس اسٹرکچر کے حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز، ترقی کے طریقہ کار اور سروس رولز میں فرق کو ختم کرنے کیلئے ایک واضح عبوری طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے مالی بوجھ اور ممکنہ عدالتی مقدمات سے بچنے کیلئے عبوری مدت میں ایک سے زائد سربراہ مقرر نہ کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments