اکیڈمیز،ٹیوشن سینٹرز کیلئے سیفٹی سرٹیفکیٹ لازمی
سرٹیفکیٹ پی ای سی سے رجسٹرڈ اسٹرکچرل انجینئرز یا متعلقہ کنسلٹنٹ فرموں سے حاصل کرنا ہوگا، انجینئر کا پورا نام، موبائل نمبر، رجسٹریشن نمبر اور مکمل پتہ درج ہونا بھی ضروری ہوگامیل اور فی میل اکیڈمیز سرٹیفکیٹ بالترتیب متعلقہ ڈی ڈی ای اوز کے دفاتر میں جمع کرائیں گی،21 اکتوبر تک عمارتوں کی فٹنس کے سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانئے پر کارروائی ہوگی، نوٹیفکیشن جاری
ملتان (خصوصی رپورٹر) ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ملتان نے طلبہ اور تدریسی و انتظامی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضلع بھر کی تمام اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کے لیے بلڈنگ سیفٹی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر ملتان کی ہدایت پر جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کے مالکان، ڈائریکٹرز اور پرنسپلز کو 21 اکتوبر 2026ء تک اپنی عمارتوں کی فٹنس کے سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق عمارت کی فٹنس کا سرٹیفکیٹ پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) میں رجسٹرڈ اسٹرکچرل انجینئر یا متعلقہ کنسلٹنٹ فرم سے حاصل کرنا ہوگا۔ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے قبل عمارت کا موقع پر تفصیلی معائنہ کرنا ضروری ہوگا، تاکہ عمارت کی ساخت، مضبوطی اور طلبہ و عملے کے لیے اس کے محفوظ ہونے کا جائزہ لیا جا سکے ۔ سرٹیفکیٹ پر متعلقہ انجینئر کا پورا نام، موبائل نمبر، رجسٹریشن نمبر اور مکمل پتہ درج کرنا بھی لازمی ہوگا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق میل اور فی میل اکیڈمیز اپنے سرٹیفکیٹ بالترتیب متعلقہ تحصیل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فی میل) کے دفاتر میں جمع کرائیں گی۔ تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ دستاویزات مکمل کرکے جمع کرائیں، تاکہ عمارتوں کی حفاظت سے متعلق تقاضے پورے کیے جا سکیں۔حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں کے دوران کسی بھی ممکنہ حادثے کے خطرات کم کرنا اور اکیڈمیز و ٹیوشن سینٹرز میں زیرتعلیم طلبہ کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانا ہے ۔ عمارتوں کی فٹنس کی جانچ سے عمارت کی ساخت میں ممکنہ نقائص کی نشاندہی اور بروقت حفاظتی اقدامات میں مدد مل سکتی ہے ۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 21 اکتوبر 2026ء تک بلڈنگ سیفٹی سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے والی اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کے خلاف پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1984ء کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور مقررہ تاریخ تک تمام تقاضے پورے کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments