ریلوے کراسنگ کی ری ماڈلنگ پھاٹک کا منصوبہ لٹک گیا
فنڈز کی عدم دستیابی ، منصوبہ رواں برس بھی شروع ہونا ناممکن،ریلوے اور پنجاب حکومت میں کوآری ڈی نیشن کے فقدان کی وجہ سے معاملہ سرد خانے کی نذز ہو گیا
سرگودھا (سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگز کی ری ماڈلنگ کا منصوبہ گزشتہ 8سال سے اداروں کے مابین جاری کشمکش کی نذر ہو کر رہ گیا جبکہ بڑھتے ہوئے حادثات باعث تشویش بننے لگے ہیں،اور لمحہ فکریہ ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ریلوے کراسنگ کی ری ماڈلنگ اور کھلی کراسنگ پر پھاٹک لگانے کا یہ منصوبہ رواں برس بھی شروع ہوتا نظر نہیں آ رہا ، صورتحال مسلسل رسک بنی ہوئی ہے ، ذرائع کے مطابق سابق حکومت پنجاب نے سرگودھا سمیت دیگر اضلاع میں ریلوے کراسنگ کی ری ماڈلنگ اور نئے پھاٹک لگانے کیلئے فروری 2017میں 6 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز کی منظوری دیتے ہوئے اس سلسلہ میں محکمہ ریلوے اور پنجاب حکومت کی مشترکہ ٹیم تشکیل دی تھی،مگر دونوں اطراف سے مناسب کوارڈی نیشن کے فقدان کی وجہ سے معاملہ سرد خانے کی نذر ہو کر رہ گیا ہے ،اس دوران فنڈز کی دستیابی کا بنیادی مسئلہ وفاقی اور صوبائی محکموں کے مابین حل نہیں ہو سکا، ایک دوسر ے پر ذمہ داری عائد کرنے کی روش روزبروز بڑھتے ہوئے حادثات میں قیمتی انسانی ضیاع کا سبب بنا ہوا ہے ،حا ل ہی میں 78شمالی کے قریب کھلے ریلوے پھاٹک پر ملت ایکسپریس کی ٹکر لگنے سے پولیس گاڑی میں سوار دو ملازمین کی شہادت اور تین ملازمین کے زخمی ہونے کے واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر تحرک کئے جانے کی شنید ہے تاہم اب تخمینہ لاگت میں لگ بھگ تین سو فیصد اضافہ کا امکان ہے ،ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے تناظر میں انتظامیہ اس امر کی ضرورت محسوس کر رہی ہے کہ فنڈز جاری کروائے جائیں جس کیلئے سفارشات تیار کی جا رہی ہیں جو جلد صوبائی حکومت کو ارسال کر دی جائینگی۔