شوگر اور جوس فیکٹریوں کی آلودگی روکنے کے لیے ہدایات

شوگر اور جوس فیکٹریوں کی آلودگی روکنے کے لیے ہدایات

شوگر اور جوس فیکٹریوں کی آلودگی روکنے کے لیے ہدایاتبوائلرز سے نکلنے والی حرارت، فضلہ جات اور مشینری سے آلودگی بڑھ گئی

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)حکومت پنجاب نے شوگر ملز اور جوس فیکٹریوں کے ذریعے پیدا ہونے والی آبی، فضائی اور صوتی آلودگی کی روک تھام کے لیے جاری ٹرمز آف ریفرنس (TORs) پر ضلعی حکومتوں کو سختی سے عملدرآمد کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ سرگودھا ڈویژن میں اس وقت کینو کی امپورٹ، ایکسپورٹ اور جوس پروڈکشن کے لیے 154 دھلائی، پالشنگ اور فنشنگ یونٹس اور 6 جوس فیکٹریاں جبکہ چینی کی پیداوار کے لیے 5 شوگر ملز قائم ہیں۔محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق ان فیکٹریوں کے بوائلرز سے نکلنے والی حرارت، فضلہ جات اور ہیوی مشینری کی وجہ سے فضائی، آبی اور صوتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے ۔ متعدد فیکٹریوں کا فضلہ نالوں اور راجباہوں میں ڈالا جا رہا ہے ، جس سے آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ علاوہ ازیں، کچھ کینو فیکٹریاں کینو کے فضلے کو کھلے مقامات پر پھینک رہی ہیں۔حکومت پنجاب نے سخت ایکشن کا فیصلہ کرتے ہوئے فیکٹریوں میں گائیڈ لائنز پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر خصوصی کمیٹیاں فعال کر دی ہیں اور ان سے جلد از جلد رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ ساتھ ہی مسلسل چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ ماحولیات اور شہری صحت کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں