پتھر مارکیٹ میں مزدوروں کی اجرت میں اضافہ نہ ہی حادثات روکنے کی حکمت عملی تیار
بیسیوں مقامات پر گہری سرنگیں بننے سے بڑا سانحہ ہونے کا خدشہ،کئی مزدور معذور،بھیک مانگنے پر مجبور،بچوں کے تعلیمی وظائف شروع کرنے میں بھی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) پتھر مارکیٹ میں حکومتی رٹ کے قیام اور جاری ایس او پیز پر عملدرآمد کا فقدان صورتحال کو مزید گھمبیر بنانے میں لگا ہوا ہے جبکہ حادثات کے ساتھ ساتھ اجرت کے معاملہ پر مزدور طبقہ پس کر رہ گیا ہے ،ذرائع کیمطابق حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود مزدوروں کی اجرت میں مناسب اضافہ کیا گیا اور نہ ہی حادثات کی روک تھام کیلئے حکمت عملی وضع کرکے عملدرآمد یقینی بنایا گیا، اس سلسلہ میں مزدور کئی مرتبہ احتجاج کر چکے ہیں اور اب بھی انہوں نے ڈیڈ لائن دے رکھی ہے ،اسی طرح پہاڑی کو ٹاپ سے کاٹنے کی بجائے بنیادیں توڑنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ،بیسیوں مقامات پر گہری سرنگیں بننے سے کسی بھی وقت کوئی بڑا سانحہ پیش آ سکتا ہے ،کام کے دوران معذور ہونیوالے مزدور فنانشل پیکیج سے محروم اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں،اسی طرح مزدوروں کے بچوں کے تعلیمی وظائف شروع کرنے میں مسلسل لعت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ،متذکرہ صورتحال کی تمام ذمہ دار محکمہ مائنز کے افسران پر عائد کی گئی جن کی کارکردگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتاہے کہ قوانین پر عملدرآمد اور مزدوروں کیلئے حفاظتی پالیسی مرتب کرنے کیلئے مائننگ بورڈ کی تشکیل کئی ماہ گزرنے کے باوجود عمل میں نہیں آ سکی،جبکہ صوبائی ارباب اختیار کی باز پرس سے بچنے کیلئے سب محکمہ مائنز کی جانب سے فرضی کاروائیوں کے ذریعے سب اچھا کی رپورٹ ارسال کی جا رہی ہے جبکہ مسائل کے حل کیلئے ان کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے ۔