افسروں کا تبادلہ: سیلاب زدگان کی امداد میں گھپلوں کی انکوائری بند
سروے ٹیموں ،پٹواریوں کی مبینہ ساز باز ، دریاسے کئی کلومیٹر دور مقیم افراد کو نوازا گیا،سرکاری ملازمین کے رشتہ دار بھی شامل ، شدید متاثرہ افراد کو معمولی رقم ادا:ذرائع
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)سرگودھا میں سیلاب زدگان کے امدادی پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشاف پر شروع ہونیوالی چھان بین کا عمل ڈویژنل و ضلعی افسران کی تبدیلی کے بعد ابتداء میں ہی روک دیا گیا، ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے 2025میں سیلاب کی وجہ سے جن گھروں،فصل اور جانوروں کا نقصان ہوا تھا کا سروے مکمل کرنے کے بعد امدادی رقوم اے ٹی ایم کارڈ ز کے ذریعے تقسیم کی گئیں، اس عمل میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، سروے میں ایسے افراد بھی جن کا نقصان نہیں ہوا بلکہ ان کی رہائش گاہیں دریا سے کئی کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں انہوں نے بھی سروے ٹیموں ،پٹواریوں کی مبینہ ساز باز سے امدادی رقم اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے وصول کیں، ان میں سرکاری ملازمین کے قریبی عزیز و قارب بھی شامل ہیں، جنہیں بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے خوب نوازا گیا، اور بعض ایسے مستحق گھرانے بھی سامنے آئے جن کا خطیر نقصان ہوا مگر انہیں معمولی رقوم ٹرانسفر کر کے ٹال دیا گیا، تفصیلات ڈویژنل انتظامیہ کوموصول ہونے پر سابق کمشنر جہانزیب اعوان کی جانب سے ایکشن لیتے ہوئے سابق ڈپٹی کمشنر محمد وسیم کوفیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ارسال کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی تاہم دونوں افسران تبدیل ہو گئے اور اس حوالے سے چھان بین کا عمل بھی ٹھپ کر دیا گیا ہے ۔