پہاڑی پتھر نکالتے وقت ڈیم میں ذخیرہ زہریلا پا نی نکال دیا گیا فصلیں تباہ مویشی ہلاک نہر بند

پہاڑی پتھر نکالتے وقت ڈیم میں ذخیرہ زہریلا پا نی نکال  دیا گیا فصلیں تباہ مویشی ہلاک نہر بند

پہاڑی لیز ہولڈرز نے ڈیم کو کٹ لگا دیا،ڈیم کی مٹی نہر میں بھر گئی ، پانی سے ہزاروں ایکڑ زرخیز زرعی زمین بنجر ، علاقہ مکینوں کا شدید احتجاج ،،کمشنر ،ڈی سی اور ڈی پی او سے نوٹس لینے کا مطالبہ

سرگودھا (سٹاف رپورٹر) سٹون کرشنگ مارکیٹ پل گیارہ، چک نمبر 126 جنوبی کی پہاڑی پر سینکڑوں فٹ گہرائی تک کھدائی کر کے پتھر نکالتے وقت زیر زمین زہریلا پانی بیسیوں ایکڑ پر محیط ڈیم بنا کر غیر قانونی اور خطرناک طریقے سے نہر کے قریب ذخیرہ کیا گیا ہے متعلقہ پہاڑی لیز ہولڈرز نے رات کی تاریکی میں 7اور8فروری کی درمیانی شب ڈیم کو کٹ لگا کر زہریلا پانی نہر،قریبی آبادیوں اور فصلوں میں چھوڑ دیا جس سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی گندم اور دیگر فصلیں تباہ ہو گئیں اور پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آکر کاشتکاروں کے مویشی بھی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ ڈیم کی مٹی بھرنے کی وجہ سے قریبی نہر مکمل طور پر بند ہوگئی ہے جس پر علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی سی سرگودھا کمشنر سرگودھا اور ڈی پی او سر گودھا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

یادر ہے کہ محکمہ مائنیز اور لیز ہولڈرز کی مبینہ ملی بھگت سے پہاڑیوں پر تین سوفٹ گہرائی تک پتھر نکالنے کا عمل جاری ہے جس سے شہریوں کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں،اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ محکمہ معدنیات اور انہار سمیت دیگر متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو متعدد بار اپیل کی گئی ہے لیکن کوئی داد رسی ہوئی جبکہ محکمہ انہار اور معدنیات کے ضلعی افسران کی مبینہ ملی بھگت اور چشم پوشی کی وجہ سے با اثر پہاڑی لیز ہولڈز کی طرف سے غیر قانونی اقدامات سے کاشتکاروں اور غریب شہریوں کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے۔ اہل دیہہ کا مزیدکہنا ہے کہ زہریلے پانی سے ہزاروں ایکڑ زرخیز زرعی بنجر ہو رہی ہے اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے بااثر افراد کے خلاف کاروائی کی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں