سرکاری رہائش گاہیں کھنڈرات بڑا سانحہ رونماہونیکا خدشہ پیدا

سرکاری رہائش گاہیں کھنڈرات بڑا سانحہ رونماہونیکا خدشہ پیدا

مجموعی طور پر سرکاری رہائش گاہوں میں ملازمین اور انکی فیملیز کے لگ بھگ6سو سے زائد نفوس رہائش پذیر ،محلہ سروس کالونی سرفہرست ہے جس کی حالت انتہائی خستہ حال عرصہ دراز سے اکثریتی رہائش گاہوں پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے متعدد عمارتیں خطرناک ہوچکی، ہم تو احتجاج بھی نہیں کر سکتے ، اہل علاقہ کی دھمکی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) محکمہ بلڈنگ افسران کی مبینہ عدم توجہی کے باعث سرگودھا میں سرکاری ملازمین کی سرکاری رہائش گاہیں کھنڈرات بننے سے کسی وقت بھی کوئی سانحہ رونما ہونے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق شہر میں تین سرکاری رہائش گاہیں ہیں جن میں ایک افسران کی ہے مجموعی طور پر سرکاری رہائش گاہوں میں ملازمین اور انکی فیملیز کے لگ بھگ6سو سے زائد نفوس رہائش پذیر ہیں ان رہائشی کالونیوں میں بابو محلہ سروس کالونی(کمشنر کالونی) سرفہرست ہے جس کی حالت انتہائی خستہ حال ہے بابو محلہ1903میں بنا تھا جو عرصہ دراز قبل اپنی معیاد پوری کر چکا ہے ان رہائش گاہوں میں رہنے والے ملازمین سے کرایوں کے ساتھ تنخواہوں میں سے 5فیصدماہانہ ایم اینڈ آرکی مد میں کٹوتی کی جارہی ہے جس کا مقصد اس رقم سے سرکاری رہائش گاہوں کی تعمیر ومرمت ہے لیکن عرصہ دراز سے اکثریتی رہائش گاہوں پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے متعدد عمارتیں خطرناک ہوچکی ہے جو کسی وقت بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے جب کہ آیم اینڈ آر کی مد میں جمع ہونے والی رقم افسران اور چہیتے ملازمین کی سرکاری رہائش گاہوں پر خرچ کر دی جاتی ہیں، کالونی کے رہائشی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کا کہنا کہ ہم تو احتجاج بھی نہیں کر سکتے ، کمشنر و ڈپٹی کمشنر از خود نوٹس لے کر اقدامات اٹھائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں