سیاسی مداخلت کے باعث عطائیت کے خاتمہ کی مہم بری طرح فلاپ
ہیلتھ اتھارٹی کے زیر انتظام چلنے والے بیشتر سرکاری ہسپتال بھی عطائیت کے مرکز میں تبدیل ،سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ تر عملہ مریضوں کو چیک کرتا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی مداخلت کے باعث جہاں ضلع بھر میں عطائیت کے خاتمہ کی مہم بری طرح فلاپ ہو چکی ہے وہاں ہیلتھ اتھارٹی کے زیر انتظام چلنے والے بیشتر سرکاری ہسپتال بھی عطائیت کے مرکز میں تبدیل ہو کررہ گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے چند ماہ قبل ہونیوالے کریک ڈاؤن میں سیل کئے گئے عطائی کلینکس اور قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب میڈیکل سٹورز بھاری جرمانوں کی وصولی کے بعدلگ بھگ تمام کے تمام ڈی سیل ہو چکے ہیں، جہاں فرضی کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کے ناموں پرپھر سے انسانی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے دوسری جانب مشاہدہ میں یہ بات بھی آئی ہے کہ پرائیویٹ ہونیوالے 130سے زائد بنیادی مراکز صحت میں سے زیادہ تر ہسپتالوں میں نئے مالکان نے ماہر عملے کی چھٹی کروا کر 15 سے 25ہزار روپے ماہانہ تک جو عملہ رکھا ہے وہ زیادہ تربیت یافتہ نہیں، اور بیشتر ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی جگہ یہی نچلہ عملہ مریضوں کو چیک کرنے کے ساتھ ساتھ ادویات بھی فراہم کر رہا ہے ، اس عمل کو محکمہ صحت خود ہی غیر قانونی قرار دے چکا ہے مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری اور عطائیت کے مترادف ہے ،ایسے سرکاری ہسپتالوں کی ایک لمبی فہرست ہے جہاں ڈاکٹر اکثر اوقات غائب رہتے ہیں یا آ کر جلدی چلے جاتے ہیں اور عملہ مرض کی تشخیص کی بجائے مریضوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے ،اس طرح سرگودھا میں عطائیت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور حکومتی رٹ کا قیام ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے ، شہریوں نے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔