لکڑی چوری کیسز کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ جاری

 لکڑی چوری کیسز کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ جاری

لکڑی چوری کیسز کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ جاری کوئی انکوائری ہولڈ نہیں کی جاتی ،اور نہ ہی مقدمات کی مناسب پیروی ہوتی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرکاری جنگلات سے لکڑی چوری اور ایف آئی آر درج کروا کر کیسز کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ذرائع کے مطابق چند روز قبل بھی بھلوال کے علاقے سے مجموعی طور پر سوا کروڑ روپے سے زائد کی سرکاری لکڑی چوری کاٹ کر لے جانے کے حوالے سے درج ہونیوالا مقدمہ قابل ذکر ہے جو کہ تاحال منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا معلوم ہوا ہے کہ ایک وقت میں سرکاری لکڑی چور ی کی یہ سب سے بڑی واردات ہے ، مگر اس معاملہ پر محکمہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے ، اس مقدمہ کا اندراج غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کر کے اس مقدمہ کے مدعی فاریسٹ پروٹیکشن آفیسر شیر محمد کو نوکری سے برخاست کر نے کے بعد ڈپٹی کنزرویٹر نے اپنی مدعیت میں دوبارہ واردات کا مقدمہ درج کروا دیا،جبکہ پہلی ایف آئی آر میں ڈپٹی کنزویٹر کی ملی بھگت ظاہر کرتے ہوئے انہیں ذمہ دار قرار دیا گیا تھا ، جو کہ اب خود مقدمہ کے مدعی بن چکے ہیں ، کہا جا رہا ہے کہ اب اس مقدمہ کو بھی کھڈے لائن لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اسی طرح حالیہ 15 ماہ کے دوران 68جنوبی،134جنوبی ،30جنوبی اور لالووالی کے علاقوں سے لاکھوں روپے مالیت کی سرکاری لکڑی چوری ہونے کی اطلاعات محکمہ جنگلات کے افسران بالا تک پہنچی، جس پر حسب سابق فیلڈ عملے کی جانب سے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کروا دیئے گئے جن کے ذمہ داروں کے خلاف نہ توقانون کے شکنجے میں لایا گیا اور نہ ہی سرکاری جنگلات سے لکڑی چوری کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے گئے ، یہی نہیں لکڑی چوری فیلڈ عملے کی مبینہ ملی بھگت سے ہو رہی ہے تاہم مقدمات درج کروا کر محکمانہ طورپر کوئی انکوائری ہولڈ نہیں کی جاتی ،اور نہ ہی درج مقدمات کی مناسب پیروی ہوتی ہے جس کی وجہ سے صورتحال دگرگوں ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں