سٹون کریشرز مالکان اور انتظامیہ میں کشمکش 300 گاڑیاں بند
400گاڑیوں کے رومٹ پرمٹ منسوخ ،قوانین پر عملدرآمد کے نام پر مشترکہ ٹیمیں شاہراہوں پر تعینات ہیں، جرمانے جمع کروانے والوں کادفاتر میں دن بھر رش ڈمپر ٹرکوں کے حادثات کی روشنی میں تیار کردہ ٹیکنکل رپورٹ پر تاحال کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی، پولیس ڈمپر ٹرکوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) ضلع میں ڈمپر ٹرکوں کے بڑھتے ہوئے حادثات، ان کے خلاف کریک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ سٹون کریشرز مالکان اور انتظامیہ کے مابین جار ی کشمکش جہاں صورتحال کو گھمبیر بنا رہی ہے وہاں بنیادی اصلاحات کا عمل مختلف رکاوٹوں کی نذر ہو کر رہ گیا ہے ذرائع کے مطابق صورتحال کے تناظر میں انتظامیہ نے ڈمپر ٹرکوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے ، اوراس حالیہ مہم کے دوران 3سو سے زائد گاڑیوں کو تھانوں میں بند کر کے ان کے چالان اوربھاری جرمانے کئے گئے جبکہ لگ بھگ400گاڑیوں کے رومٹ پرمٹ منسوخ کئے جا چکے ہیں ،قوانین پر عملدرآمد کے نام پر مشترکہ ٹیمیں شاہراہوں پر تعینات ہیں، جرمانے جمع کروانے والوں کادفاتر میں دن بھر رش لگا رہتا ہے ، اورمتعلقہ شعبوں کا عملہ بھی خوش نظر آ رہا ہے جبکہ بنیادی اصلاحات کی طرف کسی کی کوئی توجہ نہیں.۔
اس حوالے سے ڈمپر ٹرکوں کے حادثات کی روشنی میں تیار کردہ ٹیکنکل رپورٹ پر تاحال کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے تحت ڈمپرٹرکوں کو ریگولرائزڈ کرنے ،انکی بناؤٹ اور ساخت کے طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کے ساتھ ساتھ ان کی رجسٹریشن کے حوالے سے محکمہ ایکسائز اور سیکرٹری ڈی آر ٹی ایز کی ذمہ داریاں طے کی گئی تھیں،مگر کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی گئی، تمام کے تمام بنیادی معاملات ایسے ہی چل رہے ہیں، اسی طرح پتھر مارکیٹ میں لگ بھگ پانچ ہزار سے زائدایسے ڈرائیورز کا بھی انکشاف ہوا ہے جو صرف دو یا تین ماہ گاڑی چلانے کے بعد مین شاہراؤں پر ڈرائیونگ کر رہے ہیں،اور مالکان کو سستے میں پڑتے ہیں، متعلقہ شعبے صرف پکڑ دھکڑ کو ہی مسئلہ کا حل قرار دے کر باقی معاملات سے بری الذمہ ہیں ، اس روایتی ڈنک ٹپاؤ کی پالیسی سے پتھر مارکیٹ اور انتظامیہ کے مابین کشمکش بڑھ رہی ہے ،اور قوانین کی خلاف روزی کا نہ رکنا سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے ،دوسری طرف ضلعی حکام کا دعویٰ ہے کہ اصلاحات پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔