بغیر پھاٹک ریلوے کرسنگز کی ری ماڈلنگ کا منصوبہ پیسے نہ ہونے کے باعث شروع نہ ہوسکا

بغیر پھاٹک ریلوے کرسنگز کی ری ماڈلنگ کا منصوبہ پیسے نہ ہونے کے باعث شروع نہ ہوسکا

63 کروڑ 40 لاکھ کے فنڈز کی منظوری دے کر ٹیم بنائی ،مناسب کوارڈی نیشن کے فقدان کی وجہ سے معاملہ سرد خانے کی نظر ہو کر رہ گیا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا میں بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگز کی ری ماڈلنگ کا منصوبہ فنڈز کا تعین نہ ہونے کے باعث رواں مالی سال بھی شروع نہ ہو سکا اور آئندہ مالی سال کے دوران بھی اس حوالے سے سفارشات التواء کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ صورتحال مسلسل رسک بنی ہوئی ہے ، ذرائع کے مطابق 8سال قبل ریلوے کراسنگ کی ری ماڈلنگ اور نئے پھاٹک لگانے کیلئے 63 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز کی منظوری دیتے ہوئے اس سلسلہ میں محکمہ ریلوے اور سابق پنجاب حکومت کی مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

مگر دونوں اطراف سے مناسب کوارڈی نیشن کے فقدان کی وجہ سے معاملہ سرد خانے کی نظر ہو کر رہ گیا ہے ،اس دوران فنڈز کی دستیابی کا بنیادی مسئلہ وفاقی اور صوبائی محکموں کے مابین حل نہیں ہو سکا، اور ایک دوسر ے پر ذمہ داری عائد کرنے کی روش روزباروز بڑھتے ہوئے حادثات میں قیمتی انسانی ضیاع کا سبب بنا ہوا ہے۔

حا ل ہی میں 78شمالی کے قریب کھلے ریلوے پھاٹک پر ملت ایکسپریس کی ٹکر لگنے سے پولیس گاڑی میں سوار دو ملازمین کی شہادت اور تین ملازمین کے زخمی ہونے کے واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر تحرک شروع ہوا تاہم تخمینہ لاگت میں لگ بھگ تین سو فیصد اضافہ کے بعد فنڈز مطلوبہ فنڈز کے تعین کا فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا،محکمہ ریلوے اور صوبائی حکومت کے ارباب اختیار کی جانب سے ایکد وسرے پر ذمہ داری عائد کرنے کی روش برقرار ہے ، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے تناظر میں اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ فنڈز جاری کروائے جائیں اور وفاقی و صوبائی حکومت اس سلسلہ میں سنجیدہ اقدام اٹھا نا چاہیے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں