سرکاری سکولوں میں پرائمری اور مڈل تک تعلیمی معیارابتر

سرکاری سکولوں میں پرائمری اور مڈل تک تعلیمی معیارابتر

ہائی اور ہائر سکنڈری شعبہ جات بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ، ہشتم تک پاس فیل کا تصور نہیں طلبہ کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کرنے کی پالیسی نے نظام مخدوش کر دیا داخلہ مہم کے تحت پروموٹ ہونیوالوں کے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی ہے نصف سے زائد طلبہ میٹرک پارٹ ون کیلئے نا اہل ، 20 فیصد کو حروف تہجی لکھنا نہیں آتے

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ضلع کے سرکاری سکولوں میں پرائمری اور مڈل تک تعلیمی معیار کی ابتری کے باعث ہائی اور ہائر سکنڈری شعبہ جات بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں اور صورتحال ہائری اور ہائر سکنڈر ی سکولوں کیلئے باعث تشویش بنتی جا رہی ہے ،ذرائع کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب میں جماعت ہشتم تک پاس فیل کا تصور نہیں تمام طلبہ کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کرنے کی پالیسی نے متذکرہ ابتدائی تعلیم کا نظام انتہائی مخدوش کر کے رکھ دیا ہے ،جہاں کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں جس کا خمیازہ سیکنڈری سکول ٹیچرز کو بھگتنا پڑرہاہے ، داخلہ مہم 2026کے تحت نویں کلاس پروموٹ ہونیوالوں کے ٹیسٹوں کی مانیٹرنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباًنصف سے زائد طلبہ مکمل طور پر میٹرک پارٹ ون کیلئے نا اہلا ہیں 20 فیصد طلبہ کو حروف تہجی صحیح لکھنا نہیں آتے ،تقریباً 30 فیصد طلبہ میں انگریزی کے چھوٹے بڑے حروف کو لکھنے کی مہارت موجود نہیں،زیادہ تر بچے ریاضی کے بنیادی تصورات سے نا بلد ہیں ، بیشتر بچے جمع، تفریق اور تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ،بڑی مشکل سے 10 فیصد طلبہ داخلہ ٹیسٹ کو پاس کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہ محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ،ہائی اور ہائر سکنڈر ی سکولوں کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ بنیادی تعلیم کا سٹرکچر بہتر نہ ہونے سے اس کے مستقبل میں نقصانات کے ساتھ ساتھ قومی خزانے پر بھی یہ بوجھ بنتا جا رہا ہے ،جماعت پنجم اور ہشتم کا امتحان پنجاب بھر کے بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے حوالے کیا جائے اور پاس ہونے والے طلبہ کو جماعت ششم اور نہم میں داخلے کا اہل قرار دیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں