پنشزز کی بڑی تعداد سرکاری دفاتر میں کاک بال بن کر رہ گئی

پنشزز کی بڑی تعداد سرکاری دفاتر میں کاک بال بن کر رہ گئی

اوپر سے لے کر نیچے تک ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں،کبھی فنڈز کی عدم دستیابی تو کبھی اتھارٹی کے سائن نہ ہونے کو وجہ قرار دے کر ہفتوں کیس لٹکائے جاتے

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلی شکایت سیل کی جانب سے پنشنروں کے مسائل کے حل کیلئے مختلف فورمز پر کی گئی اصلاحات کے باوجود صورتحال تبدیل نہ ہونے پر پنشنرز کی بڑی تعداد مختلف محکموں میں کاک بال بن کر رہ گئی ہے ، میونسپل کارپوریشنزاور دیگر محکموں کے پنشنروں نے در پیش مسائل اور انتظامی لا پرواہی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے ہی محکمے جہاں وہ عمر کا ایک حصہ گزار آئے اب اجنبی ہو کر رہ گئے ہیں، اوپر سے لے کر نیچے تک ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں، جبکہ پنشنرز دفاتر میں شٹل کاک بن کر رہ گئے ہیں، کبھی فنڈز کی عدم دستیابی تو کبھی اتھارٹی کے سائن نہ ہونے کو وجہ قرار دے کر ہفتوں کیس لٹکائے جاتے ہیں،بعض پنشنرز کی مشکلات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ ذہنی مریض بن کر رہ گئے ہیں انہوں نے وفاقی و صوائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جا ئے ، اور پنشنرز کیلئے ون ونڈو آپریشن شرو ع کیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں