زمینوں کو دریائے جہلم کے کٹاؤ بچانے کیلئے انتظامات کاغذی کارروائی تک محدود

زمینوں  کو  دریائے  جہلم کے کٹاؤ بچانے کیلئے  انتظامات کاغذی  کارروائی  تک  محدود

سینکڑوں آبادیوں کے مکین وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکلات اور خوف کا شکار،تینو ں تحصیلوں میں بیشتر دیہات میں دریائی کٹاؤ پہلے ہی کروڑوں روپے کا نقصان کر چکا ، اہل علاقہ

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا کی تحصیلوں شاہ پور ، بھیرہ اور ساہی وال کے مقامات پر آبادیوں اور زرعی زمینوں کو دریائے جہلم کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے حفاظتی انتظامات تاحال کاغذی کاروائیوں ، افسران کے دوروں اور ان پر اٹھنے والے بھاری اخراجات تک محدود ہیں ،جبکہ سینکڑوں آبادیوں کے مکین وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکلات اور خوف کا شکار ہو رہے ہیں،ذرائع کے مطابق ان تینو ں تحصیلوں میں بیشتر دیہات میں دریائی کٹاؤ پہلے ہی کروڑوں روپے کا نقصان کر چکا ہے ،سینکڑوں ڈیرہ جات، قبرستان و دیگر املاک کے ساتھ ساتھ بجلی کا نظام بھی خطرے میں پڑا ہوا ہے ، مگر متعلقہ ادارے اس مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے صرف کاغذی کاروائیوں میں مصروف ہیں، ان کے دوروں پر بھاری اخراجات اور فنڈز کا بے دریغ استعمال قومی خزانے پر اضافی بوجھ بنا ہو اہے ،متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک عرصہ سے سن رہے ہیں کہ یہاں کناروں کو مضبوط کرنے کا میگا منصوبہ شروع ہوگا مگر عملدرآمد سامنے نہیں آیا ، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران حکومتو ں نے جتنے فنڈز جاری کئے اس میں سے آدھے بھی نہیں لگائے گئے ، اور اب بھی جس تیزی سے کاغذی کاروائیاں ہو رہی ہیں اس سے صورتحال بہتر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی انہوں نے ارباب اختیار سے فوری ایکشن لینے کی استدعا کی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں