زچہ بچہ کی شرح اموات روکنے کے پروگراموں پر ناقص عملدرآمد ،حکومت کا اظہار تشویش
خواتین میں مناسب خوراک کی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے 42فیصد بچے پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کے ساتھ کسی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں، ویٹامن اے کی کمی کی شرح پچاس فیصد
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا سمیت ریجن بھر میں ماں اور بچے کی صحت سمیت ان میں شرح اموات پر قابو پانے کے حوالے سے جاری پروگراموں پر ناقص عملدرآمد اور مطلوبہ اہداف کی عدم تکمیل پر حکومت پنجاب نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملٹی سیکٹوریل سٹریٹجی کے تحت ضلعی سطح پر میل نیوٹریشن ایڈریس کو فعال بنانے ۱کا فیصلہ کیا ہے ، اعلی سطحی مانیٹرنگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈویژنل و ضلعی افسران کو آگاہ کیا گیا کہ خواتین میں مناسب خوراک کی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اوسطاً42فیصد بچے پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں،اسی طرح ماں اور بچے میں ویٹامن اے کی کمی کی شرح پچاس فیصد تک پائی گئی ، یہی وجہ ہے کہ زچگی کے دوران ماں اور بچوں میں شرح اموات کنٹرول کرنے کے جاری پروگراموں کے اہداف گزشتہ پانچ سالوں سے حاصل نہیں کئے جا رہے ہیں،یہ امر پولیٹیکل، معاشی اور معاشرتی مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے ،جس پر چیف ہیلتھ/نیوٹریشن پراجیکٹ ڈائریکٹر پنجاب کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جاری پروگراموں کی مانیٹرنگ کیلئے ضلعی سطح پر خصوصی کمیٹیوں اور ملٹی سیکٹوریل نیوٹریشن سنٹرز کو فوری طور پر فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور ضلعی افسران کو اس سلسلہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے اور ناقص کارکردگی پر سخت ایکشن لینے کا بھی کہا گیا ہے۔