غیر قانونی ڈمپر ٹرکوں کی تیاری و رجسٹریشن جاری
مقامی سطح پر بعض ڈمپر ٹرک مختلف گاڑیوں کے فریم استعمال کر کے تیار کیے جا رہے ،قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ،سنگین تکنیکی نقائص بھی سامنے آ رہے ہیں ضلعی پولیس کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ اور اس میں تجویز کردہ اقدامات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا،معاملہ دو سال سے زائد عرصے سے التواء کا شکار
سرگودھا (نعیم فیصل سے )ڈمپر ٹرکوں کی مقامی سطح پر مبینہ غیر قانونی تیاری اور رجسٹریشن کے حوالے سے ضلعی پولیس کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ اور اس میں تجویز کردہ اقدامات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا، جبکہ معاملہ دو سال سے زائد عرصے سے التواء کا شکار ہے ۔ذرائع کے مطابق ڈمپر ٹرکوں کے بڑھتے ہوئے حادثات کے بعد پولیس کی جانچ پڑتال میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ بعض ڈمپر ٹرک مختلف گاڑیوں کے فریم استعمال کر کے تیار کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ سنگین تکنیکی نقائص بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ ایسے ڈمپر ٹرکوں کی رجسٹریشن کس بنیاد پر کی جا رہی ہے اور آیا یہ گاڑیاں مقررہ حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس رپورٹ کے بعد اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے محکمہ ایکسائز سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی، جس کے بعد متعلقہ محکمے میں تشویش پائی گئی تاہم بعد ازاں معاملہ غیر فعال ہو گیا اور سفارشات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ایسے ڈمپر ٹرک سڑکوں پر چل رہے ہیں جنہیں مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کے باعث سرکاری خزانے میں کروڑوں روپے جمع ہونے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے ۔دوسری جانب ڈمپر ٹرکوں سے ہونے والے حادثات میں مسلسل اضافہ تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ڈمپر ٹرکوں کی زد میں آ کر جاں بحق افراد کی تعداد 110 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی اور ناقص ڈمپر ٹرکوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ٹرانسپورٹ نظام کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے ۔