اربوں کی سرکاری اراضی اونے پونے داموں لیز پر دینے کی جامع چھان بین شروع
سیاسی اثر و رسوخ کے تحت منظورِ نظر افراد کو سرکاری رقبے طویل المدتی لیز پر دیئے گئے ، قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اہم تجارتی اور رہائشی مقامات پر واقع اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کو مبینہ طور پر قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اونے پونے داموں لیز پر دینے کے معاملات کی جامع چھان بین شروع کر دی ۔ ذرائع کے مطابق مختلف اضلاع میں سیاسی اثر و رسوخ اور مبینہ سرپرستی کے تحت بعض بااثر اور منظورِ نظر افراد کو قیمتی سرکاری رقبے طویل المدتی لیز پر دیے گئے ، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے ممکنہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا،ذرائع کا کہنا کہ ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران متعدد ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جن میں لیز کے اجرا کے وقت مقررہ قواعد و ضوابط، نیلامی کے طریقہ کار اور دیگر قانونی تقاضوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ بعض کیسز میں سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ یا لیز کیلئے کھلی نیلامی کرانے کے بجائے مخصوص افراد کو براہِ راست فوائد پہنچانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں،مزید معلوم ہوا ہے کہ کئی مقامات پر سرکاری اراضی کی مارکیٹ ویلیو اور کمرشل اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہائی کم نرخوں پر لیز دی گئی جبکہ بعض معاملات میں کرایوں اور سالانہ فیسوں کا تعین بھی مارکیٹ ریٹ سے کہیں کم کیا گیا تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کے افسران کی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اس سلسلے میں ڈویژنل اور ضلعی سطح پر قائم سکروٹنی کمیٹیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے ۔ کمیٹیوں کے اجلاسوں کے منٹس، سفارشات، منظوریوں، لیز معاہدوں، نیلامی کے اشتہارات اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔