لائیوسٹاک کے افزائش نسل پروگرام میں مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات تعطل کا شکار

لائیوسٹاک  کے  افزائش  نسل  پروگرام  میں  مالی  بے  ضابطگیوں  کی  تحقیقات  تعطل  کا  شکار

ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح کے بعض افسران نے باہمی ملی بھگت سے فیلڈ عملے پر دباؤ ڈال کر مجموعی فنڈز کا تقریباً نصف حصہ وصول کر لیا محدود فنڈز کاشتکاروں میں تقسیم

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا سمیت ڈویژن بھر میں محکمہ لائیو سٹاک کے قدرتی افزائشِ نسل پروگرام میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور فنڈز میں خردبرد کے انکشافات کے بعد شروع کی جانیوالی ابتدائی تحقیقات مبینہ طور پر بااثر افسران کے اثر و رسوخ کے باعث تعطل کا شکار ہوکر رہ گئی۔ حکومت پنجاب نے مویشیوں کی قدرتی افزائش کو فروغ دینے اور بہتر نسل کے جانوروں کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے سانڈ، بیل، بکرا، چھترا اور اونٹ رکھنے کے خصوصی پروگرام کے تحت کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے تھے تاہم منصوبے پر عملدرآمد کے دوران بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور خردبرد کی شکایات سامنے آنے پر اس وقت کے کمشنر اجمل بھٹی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا،ابتدائی چھان بین میں مبینہ طور پر یہ انکشاف ہوا کہ اس وقت کے ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح کے بعض افسران نے باہمی ملی بھگت سے فیلڈ عملے پر دباؤ ڈال کر مجموعی فنڈز کا تقریباً نصف حصہ، جو ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد بنتا ہے ، وصول کر لیا۔ ذرائع کا کہنا کہ باقی ماندہ رقم میں سے بھی اکاؤنٹس، آڈٹ، سکیم کی منظوری اور دیگر اخراجات کی مد میں کٹوتیوں کے بعد محدود فنڈز کاشتکاروں میں تقسیم کیے گئے ، جبکہ ان پڑھ مستحقین سے مکمل رقم وصول کرنے کے رسیدی انگوٹھے لگوا ئے گئے ،بعض ملازمین نے اس مبینہ غیر قانونی عمل میں تعاون سے انکار یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا گیا، تاہم ان معاملات میں بھی مؤثر احتساب نہ ہونے کے باعث اصلاحات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں