بی آئی ایس پی امدادی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیوں کی شکایات

 بی آئی ایس پی امدادی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیوں کی شکایات

بی آئی ایس پی امدادی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیوں کی شکایات قسط سے مبینہ طور پر 500 سے ایک ہزار روپے تک کی غیر قانونی کٹوتی کی جا رہی

شاہ پور (نمائندہ دنیا)تحصیل شاہ پور میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق، غریب اور بیوہ خواتین کو دی جانے والی مالی امداد کی ادائیگی کے دوران مبینہ طور پر غیر قانونی کٹوتیوں اور بدعنوانی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔متاثرہ خواتین کے مطابق تھانہ جھاوریاں کے علاقے موضع کہوٹ میں محمد صفدر سکنہ چک موسی نے ادائیگی کے لیے ڈیوائس نصب کر رکھی ہے ، جہاں ہر مستحق خاتون کی قسط سے مبینہ طور پر 500 سے ایک ہزار روپے تک کی غیر قانونی کٹوتی کی جا رہی ہے ۔اسی طرح تھانہ شاہ پور صدر کے علاقے مدینہ ٹاؤن میں محمد حسنین کی جانب سے نصب ڈیوائس پر بھی خواتین سے مبینہ طور پر 500 سے ایک ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ خوشاب۔سرگودھا روڈ پر انسپائر کالج کے قریب محمد ندیم کی ڈیوائس پر ایک ہزار سے 1500 روپے تک کی مبینہ کٹوتی کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون کٹوتی دینے سے انکار کرے تو اسے گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے یا مختلف بہانوں سے رقم دئیے بغیر واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کرایہ خرچ کرکے ادائیگی مراکز تک پہنچتی ہیں، مگر وہاں ان سے مبینہ طور پر ناجائز رقم طلب کی جاتی ہے۔ جس سے انہیں مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض ریٹیلرز مبینہ طور پر بی آئی ایس پی کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے یہ غیر قانونی کٹوتیاں کر رہے ہیں، جس کے باعث سرکاری امداد کا مقصد متاثر ہو رہا ہے اور مستحق خواتین کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔متاثرہ خواتین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث افراد کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستحق خواتین کو ان کی امدادی رقم بغیر کسی کٹوتی کے فراہم کی جا سکے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں