فیصل مسعود ہسپتال ، داخلے کے نام پر غیر قانونی وصولیوں کی تحقیقات

فیصل مسعود ہسپتال ، داخلے کے نام پر غیر قانونی وصولیوں کی تحقیقات

فیصل مسعود ہسپتال ، داخلے کے نام پر غیر قانونی وصولیوں کی تحقیقات رقم کے عوض کوئی سرکاری رسید جاری نہیں کی جاتی، مریضوں کی تفصیلات کا آڈٹ ہو گا

سرگودھا (سٹاف رپورٹر) ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کے داخلے کے نام پر مبینہ غیر قانونی وصولیوں کے انکشاف کے بعد ضلعی انتظامیہ نے چھان بین شروع کر دی ہے ۔ذرائع کے مطابق ایک سرویلنس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری قواعد کے تحت ہسپتال میں مریض کے داخلے کے لیے کسی قسم کی فیس مقرر نہیں، تاہم مبینہ طور پر داخلہ فارم کے نام پر مریضوں اور ان کے لواحقین سے 50 روپے جبکہ رات کے اوقات میں 100 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رقم کے عوض کوئی سرکاری رسید جاری نہیں کی جاتی، جس کے باعث مریض اور ان کے اہل خانہ مجبوری میں ادائیگی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ہسپتال میں روزانہ تقریباً 200 سے 250 مریض مختلف وارڈز میں داخل کیے جاتے ہیں، جس کے باعث روزانہ قابلِ ذکر رقم غیر قانونی طور پر وصول کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ اس صورتحال نے مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران مریضوں کے داخلے کے ریکارڈ، متعلقہ عملے کی ذمہ داریوں اور روزانہ داخل ہونے والے مریضوں کی تفصیلات کا آڈٹ بھی کیا جائے گا۔ اگر کسی ملازم کے خلاف غیر قانونی وصولی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے ۔دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا سمیت گرد و نواح کے اضلاع اور تحصیلوں کے لاکھوں افراد کو طبی سہولیات فراہم کرتا ہے ، اس لیے اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں