سرکاری رہائش گاہوں،ریسٹ ہاؤسز،دفاتر اور دیگر سرکاری جائیدادوں پر نجی افراد کا قبضہ

سرکاری  رہائش گاہوں،ریسٹ ہاؤسز،دفاتر اور دیگر سرکاری جائیدادوں پر نجی  افراد  کا قبضہ

حکومت پنجاب کی جانب سے متعدد مرتبہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو سرکاری املاک واگزار کرانے کی ہدایات کی گئیں ، املاک واگزار کرانے کی شرح انتہائی مایوس کن رہی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) مختلف محکموں کی سرکاری رہائش گاہوں، ریسٹ ہاؤسز، دفاتر اور دیگر سرکاری جائیدادوں پر نہ صرف نجی افراد بلکہ مختلف سرکاری محکموں کے افسران، ملازمین اور بعض اداروں نے بھی طویل عرصے سے قبضے جما رکھے ہیں، جس پر پنجاب حکومت نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر پر مشتمل سرگودھا ریجن میں ریونیو، بلڈنگز، ایگریکلچر، لٹریسی، ایجوکیشن اور مختلف تحقیقاتی و دیگر سرکاری اداروں کی متعدد رہائشی عمارتیں، ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری اراضی اصل محکمانہ استعمال کے بجائے غیر متعلقہ افراد یا دیگر محکموں کے زیر استعمال ہیں۔ کئی مقامات پر سرکاری ملازمین ریٹائرمنٹ یا تبادلے کے باوجود سرکاری رہائش گاہیں خالی نہیں کر رہے ، جبکہ بعض سرکاری دفاتر دوسرے محکموں کی ملکیتی عمارتوں میں برسوں سے قابض ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد مرتبہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو سرکاری املاک واگزار کرانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف ڈیڈ لائنز بھی مقرر کی گئیں، تاہم خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر آخری بار 30 جون تک تمام غیر قانونی قبضے ختم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی،ذرائع کے مطابق مقررہ ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود سرکاری املاک واگزار کرانے کی شرح انتہائی مایوس کن رہی، جس پر سیکرٹری انفراسٹرکچر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ سیکرٹری کی جانب سے سرگودھا ریجن کے چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ضلعی سربراہان اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تمام سرکاری املاک کی ازسرنو جانچ کی جائے ، ناجائز قابضین کی نشاندہی کی جائے اور بلاامتیاز کارروائی کرتے ہوئے سرکاری جائیدادیں فوری طور پر واگزار کرائی جائیں،ذرائع کے مطابق حکام نے واضح کیا ہے کہ سرکاری املاک پر ناجائز قبضوں کے خاتمے میں غفلت یا کوتاہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ہر ضلع سے تازہ ترین رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...