باغات مون سون میں نقصان دہ کیڑوں کی زد میں آنا شروع، بیماریوں کے پھیلائو کا خدشہ

باغات مون سون میں نقصان دہ کیڑوں کی زد میں آنا شروع، بیماریوں کے پھیلائو کا خدشہ

تیلا، سٹرس اسکیلز اور لیف مائنر جیسے نقصان دہ کیڑوں کے حملے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں،باغات متاثر ہونے کی اطلاعات، متاثرہ شاخوں کی بروقت تلفی، نکاسی آب کا مؤثر انتظام اور حفاظتی سپرے انتہائی ضروری ہیں،ماہرین

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) مناسب دیکھ بھال، بروقت حفاظتی اقدامات اور متعلقہ اداروں کی جانب سے آگاہی مہم مؤثر انداز میں نہ چلائے جانے کے باعث سرگودھا اور گردونواح کے ترشاوہ باغات مون سون سیزن میں مختلف بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کی زد میں آنا شروع ہو گئے ہیں حالیہ بارشوں، فضا میں نمی کے بڑھتے تناسب اور تیز ہواؤں کے باعث باغات میں سٹرس کینکر، میلانوز، پھل کی ڈنڈی گلنے اور دیگر فنگس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے ، جبکہ متعدد علاقوں سے باغات متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث کئی باغات میں پتوں، شاخوں اور پھلوں پر بیماریوں کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں سٹرس سلا (تیلا)، سٹرس اسکیلز اور لیف مائنر جیسے نقصان دہ کیڑوں کے حملے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں، جو نہ صرف پیداوار بلکہ پھلوں کے معیار کو بھی متاثر کر رہے ہیں، کاشتکاروں کا کہنا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بیماریوں، موسمی شدت اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث انہیں پہلے ہی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، جبکہ موجودہ صورتحال نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ،اگر بیماریوں پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف رواں سیزن کی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ خطے میں ترشاوہ باغات کا رقبہ مزید کم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو جائے گا،دوسری جانب ماہرین زراعت کے مطابق مون سون کے دوران باغات کی مسلسل نگرانی، متاثرہ شاخوں کی بروقت تلفی، نکاسی آب کا مؤثر انتظام اور حفاظتی سپرے انتہائی ضروری ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...