دریائے جہلم کے کنارے حفاظتی بندوں کی خستہ حالی، درجنوں دیہات عدم تحفظ کا شکار
بوہلڑی والا سائیڈ پر متعدد مقامات پر بند کی اونچائی انتہائی کم ہو چکی ،جنگلی جانوروں کی جانب سے بند میں بنائے گئے سوراخوں کے باعث راجباہ نہر میں شگاف دیہات سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ سکتے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) دریائے جہلم کے کنارے قائم حفاظتی بندوں کی خستہ حالی، کمزور تعمیر اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث تحصیل ساہیوال کے درجنوں دیہات کے ہزاروں مکین شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں،ذرائع کے مطابق شہر ساہیوال کو سیلابی ریلوں سے محفوظ رکھنے کے لیے راجباہ نہر بوہلڑی والا سے علی والا واگھ تک تقریباً تین کلومیٹر طویل سرکاری حفاظتی بند شہر کے مغربی جانب تعمیر کیا گیا تھا، تاہم لنگر والا روڈ کے دوسری طرف بوہلڑی والا سائیڈ پر متعدد مقامات پر اس بند کی اونچائی انتہائی کم ہو چکی ہے جبکہ کئی حصے خستہ حالی کا شکار ہیں چند سال قبل مسلسل بارشوں اور جنگلی جانوروں کی جانب سے بند میں بنائے گئے سوراخوں کے باعث راجباہ نہر میں شگاف پڑ گیا تھا، جس سے سیلابی پانی نے کئی ایکڑ زرعی اراضی کو تباہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں بند کی مرمت ضرور کی گئی، مگر آج بھی متعدد مقامات پر اس کی اونچائی ناکافی ہے جبکہ جنگلی جانور دوبارہ بند میں بل بنا چکے ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ،دوسری جانب دریائے جہلم سے ملحقہ دیہات چاندنہ، خوشکن، جلہ زرین، بوہلڑی والا، دادن اور دیگر علاقوں کے مکینوں نے حکومتی وسائل نہ ملنے پر اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کرکے دریائے جہلم کے ساتھ تقریباً اڑھائی سے تین کلومیٹر طویل نجی حفاظتی پشتہ تعمیر کیا۔ تاہم علاقہ مکینوں کے مطابق یہ پشتہ جدید انجینئرنگ اصولوں کے مطابق تعمیر نہیں کیا گیا، اس لیے دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کی صورت میں اس کے ٹوٹنے کا شدید خدشہ موجود ہے ، جس سے مذکورہ دیہات براہ راست سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں،علاقہ مکینوں نے مزید نشاندہی کی کہ بوہلڑی والا کے قریب راجباہ نہر کے کنارے حفاظتی پشتے کی اونچائی بھی انتہائی کم اور اس کی حالت ابتر ہو چکی ہے ۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سیلابی پانی اس مقام سے گزر گیا تو کاکاسیال سپورٹس اسٹیڈیم ساہیوال کے قریب سڑک کے ذریعے پانی ساہیوال ٹاؤن میں داخل ہو سکتا ہے ، جس سے شہری آبادی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments