1000 اول اینٹ 22 ہزار سے تجاوز کرگئی، تعمیراتی سرگرمیاں بری طرح متاثر
بھٹوں کی ممکنہ بندش کی اطلاعات کے ساتھ ہی ذخیرہ شدہ اینٹوں کی قیمتوں میں اضافہ متوسط طبقے کے لیے اپنے گھر کی تعمیر کا خواب دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)بھٹوں کی ممکنہ بندش کی اطلاعات کے ساتھ ہی ذخیرہ شدہ اینٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، ایک ہزار اول اینٹ 22 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر گئی، جبکہ سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان مہنگا ہونے سے نجی تعمیراتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے لگی ہیں ،ذرائع کے مطابق بھٹہ خشت مالکان کی جانب سے آئندہ ماہ ممکنہ بندش کے پیش نظر بڑی مقدار میں اینٹیں ذخیرہ کیے جانے کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ ایک ہزار اول اینٹ کی قیمت 22 ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے ، جبکہ دیگر اقسام کی اینٹوں کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں اینٹوں کے ساتھ سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے نے تعمیراتی شعبے کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث نجی تعمیراتی کام یا تو روک دیے گئے ہیں یا انتہائی سست روی کا شکار ہیں، جبکہ متوسط طبقے کے لیے اپنے گھر کی تعمیر کا خواب دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے تعمیراتی لاگت بڑھنے کا براہ راست اثر سرکاری منصوبوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق موجودہ قیمتوں کو دیکھتے ہوئے مختلف سرکاری تعمیراتی منصوبوں کی لاگت میں تقریباً 30 سے 40 فیصد تک اضافے کا امکان ہے ، جس کے نتیجے میں حکومتی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments