فکس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز پر تاجر برادری کو شدید تحفظات

فکس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز پر تاجر برادری کو شدید تحفظات

فکس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز پر تاجر برادری کو شدید تحفظات سالانہ فکس ٹیکس کی وصولی بھی اتاجر کی آمدن کے تناسب سے ایک بڑا بوجھ

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) چھوٹے دکانداروں پر 35 ہزار روپے فکس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز پر شہر کی تاجر برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ محدود آمدن رکھنے والے چھوٹے کاروباری افراد پر بھاری فکس ٹیکس عائد کرنا کاروباری سرگرمیوں کو مزید مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے ،تاجر رہنماؤں کے مطابق ایک چھوٹا دکاندار جس کی دکان میں مجموعی طور پر 40 سے 50 ہزار روپے کا سامان موجود ہوتا ہے ، وہ بمشکل روزانہ 1500 سے 2000 روپے کماتا ہے ۔ ایسے دکاندار سے 35 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس کی وصولی بھی اس کی آمدن کے تناسب سے ایک بڑا بوجھ ہے ، جبکہ اگر ٹیکس کی رقم ماہانہ بنیاد پر عائد کی جائے تو یہ چھوٹے کاروبار کے لیے ناقابل برداشت ہوجائے گی، چھوٹے دکاندار کو دکان کا کرایہ، بجلی کا بل، ملازم کی تنخواہ اور اپنے گھر کے اخراجات بھی اسی محدود آمدن سے پورے کرنا ہوتے ہیں۔ ایسے میں اضافی ٹیکس عائد ہونے سے دکاندار کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔تاجر رہنماؤں نے پالیسی سازوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے پالیسیاں مرتب کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس پالیسی مرتب کرتے وقت چھوٹے تاجروں کی حقیقی آمدن، کاروباری اخراجات اور معاشی مشکلات کو مدنظر رکھے ،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چھوٹے کاروباروں پر مسلسل مالی بوجھ بڑھایا گیا تو کاروباری سرگرمیاں مزید سکڑ جائیں گی، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور چھوٹے دکاندار کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غریب اور چھوٹے کاروباری طبقے پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے قابلِ عمل اور منصفانہ ٹیکس پالیسی تشکیل دی جائے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...