نہم گریڈز کی مبینہ تبدیلیاں، سرگودھا بورڈ کی 2رکنی کمیٹی قائم

 نہم گریڈز کی مبینہ تبدیلیاں، سرگودھا بورڈ کی 2رکنی کمیٹی قائم

نہم گریڈز کی مبینہ تبدیلیاں، سرگودھا بورڈ کی 2رکنی کمیٹی قائم ریکارڈ میں تبدیلیوں کے دعووں نے امتحانی نظام کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا دئیے

سرگودھا (سٹاف رپورٹر ) سرگودھا بورڈ کے نویں جماعت کے نتائج میں نمبروں اور گریڈز کی مبینہ تبدیلیوں نے ہزاروں طلبہ اور والدین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا، جبکہ رزلٹ جاری ہونے کے بعد ریکارڈ میں تبدیلیوں کے دعووں نے امتحانی نظام کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا دئیے ۔2 ستمبر کو جاری ہونے والے نویں جماعت کے نتائج میں بعض طلبہ کے نمبروں اور گریڈز میں مبینہ تبدیلیاں سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ والدین کے مطابق بعض طلبہ کو ابتدائی طور پر گریڈ اے پلس دیا گیا، جسے بعدازاں گریڈ اے کر دیا گیا۔ اسی طرح بھکر کے طالب علم عمیر علی کے انگلش کے رزلٹ میں 13 نمبر درج کیے گئے ، جبکہ والدین کا دعویٰ ہے کہ اس کی جوابی کاپی پر 62 نمبر موجود ہیں۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔والدین کے مطابق بعض طلبہ کے رزلٹ میں 2 ستمبر کو نتائج جاری ہونے کے بعد بھی مبینہ طور پر تبدیلیاں کی گئیں، جس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نتائج جاری ہونے کے بعد ریکارڈ میں تبدیلی کی اجازت کس نے دی اور اس کا باقاعدہ طریقہ کار کیا تھا۔متاثرہ طلبہ اور والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ پیپرز دوبارہ چیک کرائے جائیں، نتائج کی تیاری کے پورے عمل کی ازسرنو جانچ کی جائے اور رزلٹ سسٹم کا آزاد آئی ٹی ماہرین سے فرانزک آڈٹ کرایا جائے ۔

انہوں نے ناقص نظام کے باعث طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔دوسری جانب نتائج جاری ہونے کے اگلے ہی روز ویب سائٹ پر رزلٹ چیک کرنے کے لیے ب فارم نمبر لازمی قرار دیے جانے سے نئے چیکنگ سسٹم پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے باعث دیگر طلبہ کے نتائج دیکھنے کی سہولت محدود ہو گئی ہے ، لہٰذا نئے نظام کی مبینہ خامیوں کی بھی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔دوسری جانب بورڈ حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے لیے چیئرمین تعلیمی بورڈ عباس حیدر نے دو رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے ، جس میں ڈاکٹر مبشر نذیر، آفیسر کنفیڈینشل پریس، اور اسسٹنٹ کنٹرولر کنڈکٹ رانا سرفراز شامل ہیں۔کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر نذر عباس کے مطابق نویں جماعت کے نتائج سے متعلق انکوائری بدھ تک مکمل کر لی جائے گی، جبکہ غفلت کے مرتکب افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...