رجسٹریشن مکمل نہ ہونے سے سوشل سکیورٹی کے مزدور طبقے کی بڑی تعداد علاج سے محروم

رجسٹریشن مکمل نہ ہونے سے سوشل سکیورٹی کے مزدور طبقے کی بڑی تعداد علاج سے محروم

محنت کش طبقے کی تعداد بھی لاکھوں میں ،بھٹہ خشت، چھوٹی، درمیانی اور بڑی فیکٹریوں، ورکشاپس اور دیگر صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے مزدور و ورکرز شامل

سرگودھا (نعیم فیصل سے) کئی صنعتی و کاروباری اداروں کی جانب سے قانون کے مطابق سوشل سکیورٹی کنٹری بیوشن کی ادائیگی اور ورکرز کی مکمل رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث مزدور طبقے کی ایک بڑی تعداد علاج معالجے سمیت متعدد قانونی سہولیات سے محروم ہے ، پاکستان بیورو آف شماریات کی 2023 مردم شماری کے تحت سرگودھا ڈویژن کی آبادی 95 لاکھ 91 ہزار 275 نفوس پر مشتمل جس میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر شامل ہیں اور ڈویژن بھر میں محنت کش طبقے کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے ، جن میں بھٹہ خشت، چھوٹی، درمیانی اور بڑی فیکٹریوں، ورکشاپس اور دیگر صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے مزدور و ورکرز شامل ہیں۔ تاہم سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو واجبات کی وصولی اور تمام اہل ورکرز کو نظام میں رجسٹر کرنے میں مشکلات کا سامنا ۔سوشل سکیورٹی واجبات کی وصولی کے سالانہ اہداف کے تعین میں بھی اعدادوشمار سامنے نہ آنے کے باعث مقررہ اہداف اور حقیقی وصولی کے درمیان فرق واضح نہیں ہو پا رہا ورکرز کی تعداد کم ظاہر کیے جانے کے باعث نہ صرف علاج معالجے ، بیماری، حادثے ، معذوری اور دیگر سوشل سکیورٹی سہولیات تک ان کی رسائی متاثر ہورہی بلکہ حکومت کو بھی ڈویژن میں حقیقی صنعتی افرادی قوت اور واجبات کا درست تخمینہ لگانے میں مشکلات درپیش ہیں، صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ سرگودھا ڈویژن کے چاروں اضلاع میں بھٹہ خشت کے ساتھ تمام چھوٹی، درمیانی اور بڑی فیکٹریوں اور صنعتی اداروں کا جامع سروے کیا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...