غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کی کوشش،ہسپتال سیل، 3 ملزم گرفتار

غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کی کوشش،ہسپتال سیل، 3 ملزم گرفتار

قصورکے ہسپتال پر چھاپہ،سازباز پرنوید، شہباز اور مریضہ کا کزن عمار پکڑے گئے سادہ لوح افراد کو رقم کا لالچ دیکر یا دھوکے سے گردے نکال کر ٹرانسپلانٹ کاانکشاف

قصور(نمائندہ دنیا،خبرنگار )قصور کے نجی ہسپتال میں غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کی کوشش ناکام، ہسپتال سیل، آپریشن تھیٹر سے گردہ برآمدکرکے 3 ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا۔ سٹیل باغ چوک قصور کے قریب نجی ہسپتال میں رات گئے پولیس اور محکمہ صحت نے مشترکہ کارروائی میں غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کی کوشش ناکام بنا دی۔ لاہور کی 27 سالہ مریضہ سکینہ بی بی کو نارووال کا رہائشی نوید شوکت اور لاہور کا رہائشی ملزم شہباز ارشد ہسپتال عملے سے ساز باز کر کے آپریشن تھیٹر لے گئے ۔ ہسپتال کے ایک ملازم کی 15 کال پر تھانہ صدر پولیس نے فوری چھاپہ مار کر موقع سے نوید، شہباز اور مریضہ کے کزن عمار کو گرفتار کر لیا۔

گینگ کے دیگر ارکان نامعلوم ڈاکٹر اور ہسپتال انتظامیہ کے کارندے تاریکی کا فائدہ اٹھاکر موقع سے فرار ہو گئے ۔پولیس نے کارروائی میں ہسپتال پارکنگ سے گاڑی اور مشکوک ایمبولینس برآمد کرلی ،گاڑی سے سرجری کا سامان اور 70 ہزار روپے ملے ۔ تفتیش پر انکشاف ہوا کہ یہ گینگ مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں سادہ لوح افراد کو پیسوں کا لالچ دیکر یا دھوکے سے انکے گردے نکال کر لاہور میں لاکھوں کے عوض ٹرانسپلانٹ کرتا ہے ۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزموں کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ۔ڈی ایچ او ڈاکٹر فیصل اقبال نے موقع پر پہنچ کر ہسپتال کو سیل کر دیا اور آپریشن تھیٹر سے سکینہ کا نکالا گیا گردہ برآمد کر کے قبضے میں لے لیا جبکہ مریضہ کو نازک حالت میں جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں