ایرانی تیل پر امریکی پابندی ختم : 60 دنوں کیلئے پیداوار، فروخت اور ترسیل کی اجازت، اقدام اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کا حصہ

 ایرانی تیل پر امریکی پابندی ختم : 60 دنوں کیلئے پیداوار، فروخت اور ترسیل کی اجازت، اقدام اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کا حصہ

پہلا دور کامیاب:شہباز شریف ،حتمی معاہدے کیلئے روڈ میپ اورلبنان کیلئے سیل پر اتفاق،ہرمز کھلی رکھنے کیلئے مواصلاتی رابطہ قائم،تکنیکی مذاکرات جاری،کمیٹی نگرانی کریگی:اعلامیہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی،کچھ منجمد اثاثے جاری :عراقچی،ایران جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دیگا:وینس،باقاعدہ جوہری مذاکرات شروع نہیں ہوئے :ایران

واشنگٹن،تہران ،برگن سٹاک(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی تیل پر امریکی پابندی ختم کردی گئی،امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 60دنوں کیلئے (21 اگست تک )ایرانی خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت ہوگی۔واضح رہے کہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا معاملہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نکتہ سات میں تھا۔اس میں درج تھا کہ امریکا ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکا نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں، بحری ناکہ بندی ختم ہو گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری نتیجہ خیز مذاکرات کے سلسلے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور کھلی راہداری اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عہد کیا ہے ،اُن کا کہنا تھا کہ فریم ورک کے حصے کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت کیلئے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس لائسنس کے تحت ایرانی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی امریکا میں درآمد کی بھی اجازت ہوگی،تاہم واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے خام تیل یا پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرین کو ترسیل کی اجازت نہیں ہوگی۔دریں اثنا پاکستان اور قطر نے امریکا ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے ۔مذاکرات پیر کی صبح اختتام پذیر ہوئے ، جبکہ ثالث ممالک پاکستان اور قطر نے اس کی تصدیق کی۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں فریق لبنان میں امریکا کے اتحادی اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے خاتمے کیلئے ایک طریقہ کار پر بھی متفق ہوئے جس کے تحت ایران اور امریکا کے لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد کیلئے سیل قائم کیا جائے گا، اس ڈی کنفلیکشن سیل میں لبنان اور ثالث ممالک شامل ہوں گے ، ثالث ممالک مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھانے کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے ،جبکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کیلئے ایک مواصلاتی رابطہ بھی قائم کیا گیا ہے ۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز فوری ہوگا، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔

ایٹمی پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل کیلئے ورکنگ گروپس تشکیل دئیے جائیں گے ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے اور ان سے حوصلہ افزا پیش رفت حاصل ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے ۔ سیاسی نگرانی فراہم کرنے کیلئے ایک باقاعدہ اور مضبوط اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے ،مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مزید تکنیکی بات چیت کاباقاعدہ آغازبھی کردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق ہوا ہے جو سیاسی نگرانی اور مزید تکنیکی مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔انہوں نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں سے یہ مذاکرات کامیاب ہوئے ،ان کی لگن، عزم اور استقامت واقعی قابل ستائش ہے جس کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی تھی۔انہوں نے کہا پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کو پرامن اور دیرپا حل کی جانب آگے بڑھانے میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا دفتر خارجہ کی ٹیم ہفتے بھر برگن سٹاک میں تکنیکی مذاکرات جاری رکھے گی۔ سمندر میں ریسکیو کیے گئے 8 ایرانی ماہی گیر کراچی سے ایران روانہ ہوگئے ،ایرانی ماہی گیروں کی محفوظ واپسی کیلئے پاکستان نے تعاون کیا۔اگرچہ ایرانی مذاکراتی ٹیم جس میں سینئر سفارت کار باقر قالیباف بھی شامل تھے ، سوئٹزرلینڈ سے تہران روانہ ہو گئی ہے تاہم ایرانی ٹی وی کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں پہلے راؤنڈ کے بعد ٹیکنیکل بات چیت ہورہی ہے۔

امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے گا،یہ ایک بڑا سنگِ میل اور ایران کو مستقل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا پہلا قدم ہے ، اس ہفتے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے ہم آج اُن سے بات کر سکتے ہیں۔ خیال رہے 2025 میں امریکا اور اسرائیل کے 12 روزہ حملوں کے بعد ایران نے جوہری ادارے کے ساتھ کچھ تعاون معطل کر دیا تھا اور بعض اہم جوہری تنصیبات تک رسائی روک دی تھی، تاہم معائنہ کاروں کے دورے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے تھے ۔جے ڈی وینس نے کہا ہم نے کامیاب حتمی معاہدے کیلئے ایک مضبوط بنیاد رکھ دی ہے ،انہوں نے کہا حتمی معاہدہ ایک گھر کی مانند ہے ، ہم نے ابھی گھر تعمیر نہیں کیا، لیکن ہم نے ایک اچھی جگہ تک پہنچنے کیلئے مضبوط بنیاد ضرور رکھ دی ہے ۔انہوں نے کہا ابھی تک اثاثے بحال نہیں کیے گئے اور اگر کیے گئے تو انہیں امریکی مصنوعات جیسے سویابین کی خریداری میں استعمال کیا جائے گا، دہشت گردی کی مالی معاونت میں نہیں۔لبنان کے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے سوال پر امریکی نائب صدر نے کہا ہم اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہو۔انہوں نے کہا صدرر ٹرمپ نے ہم سے کہا ہے کہ ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کیا جائے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان میں دشمنی کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہایہ معاملات ہمیشہ کچھ نہ کچھ پیچیدہ ہوتے ہیں۔جے ڈی وینس نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بیان کرتے ہوئے کہا اگر ایران کی قیادت علاقائی عدم استحکام کا باعث بننا اور نیوکلیئر پروگرام چھوڑ دے تو پھر امریکا ایران کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات بنائے گا۔انہوں نے کہا ہم سفارتکاری کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں، ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں سب کیلئے امن و خوشحالی ہوگی۔ ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے خاتمے کے بعد اب ہمیں آگے بڑھنا ہے ، اسلام آباد ڈائیلاگ سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایران اور امریکا نے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کیے ہوں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاجوہری مسئلے پر مختصر گفتگو ہوئی، لیکن تفصیلات پر بات نہیں ہوئی، باقاعدہ جوہری مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے ۔ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ ایم اویو کی کسی خلاف ورزی پر تہران بھاری ردِعمل دے گا، سفارتی پیشرفت کے باوجود ملکی مسلح افواج نے دشمن پرکبھی اعتماد نہیں کیا۔پیر کے روز شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ ایران کی جانب سے دوبارہ بندش کے دعوے کے باوجود جہاز اب بھی آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے ، جبکہ پیر کے مشترکہ بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی کیونکہ عالمی منڈی میں رسد کی کمی کے خدشات کم ہو گئے ، عالمی معیار کا برینٹ خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک ڈالر سے زائد کمی کے ساتھ 79.44 ڈالر ہوگئی ہے ۔لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تشدد ہفتے کی رات کے بعد نمایاں طور پر کم ہوا اور پیر تک اسرائیلی حملوں یا نئی جھڑپوں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں جبکہ جنوبی لبنان کے کچھ رہائشی محتاط انداز میں اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق لبنان میں لڑائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 4ہزار 100 سے تجاوز کر چکی ہے ۔اس کے علاوہ ابھی تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ خطے میں مسلح گروہوں کی ایران کی حمایت کے معاملے کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے گا، حالانکہ یہی معاملہ طویل عرصے سے امریکہ اور اسرائیل کی ناراضی کا سبب رہا ہے ۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا اسرائیل ایران کے ساتھ سفارتی حل کی مخالفت نہیں کرتا، تاہم کسی بھی معاہدے میں یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران کو ملنے والے فنڈز فوجی مقاصد یا علاقائی اتحادی گروہوں کی مدد کیلئے استعمال نہ ہوں۔لبنان کے صدر جوزف عون نے اپنے بیان میں اسرائیلی جنگ روکنے کیلئے بین الاقوامی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا لبنان اپنے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت قبول نہیں کرے گا، لبنان کی جانب سے کوئی مذاکرات نہیں کرسکتا، لبنانی عوام کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پرعائد ہوتی ہے کسی ایک گروہ پر نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مسابقت جائز ہے لیکن اسے ریاست کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں