سیاسی استحکام کی علامت برطانیہ مسلسل بحرانوں کی زد میں

 سیاسی استحکام کی علامت برطانیہ مسلسل بحرانوں کی زد میں

دس برسوں میں 6وزرائے اعظم مستعفی،2صدیوں میں تنزلی کی تیز ترین رفتار واضح منصوبہ نہ ہو ا تو نیا وزیراعظم بھی سوچتا رہے گا نظام کام کیوں نہیں کر رہا :رشی سوناک

لندن(رائٹرز ) کیئر سٹارمر گزشتہ 10 برسوں میں مستعفی ہونے والے چھٹے برطانوی وزیراعظم بن گئے ہیں، جو کہ گزشتہ دو صدیوں میں ملک کی تاریخ میں سیاسی تنزلی  کی سب سے تیز ترین رفتار ہے ۔برطانیہ جو کبھی عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی استحکام کا مینار سمجھا جاتا تھا، اب مسلسل بحرانوں کی زد میں ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس شدید سیاسی بدامنی کی درج ذیل بڑی وجوہات ہیں۔ سنہ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے برطانوی عوام کا معیارِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ کورونا وبا اور یوکرین جنگ کی وجہ سے ملکی قرضے جی ڈی پی کے 100فیصد کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس نے حکومتی اخراجات کو جکڑ کر رکھ دیا ہے ۔ حکومتیں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی کو سنبھالنے اور غیر قانونی امیگریشن جیسے سنگین مسائل کو حل کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہیں، جس سے سماجی اور سیاسی خلیج گہری ہو گئی ہے ۔بریگزٹ (Brexit) کے اثرات کے حوالے سے دس سال قبل یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے نے ملک کے طویل مدتی خارجہ اور معاشی ماڈل کو تہ و بالا کر دیا، جس سے سکاٹ لینڈ میں آزادی کی تحریک کو بھی دوبارہ ہوا ملی۔تاریخ دانوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس وقت ایک انتہائی گہرے گڑھے میں گر چکا ہے ۔ کیئر سٹارمر کے بعد اب گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کا نام اگلے وزیراعظم کے طور پر سب سے مضبوط امیدوار کے روپ میں سامنے آ رہا ہے ۔سابق وزیراعظم رشی سوناک نے نئے آنے والے رہنما کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر برنہم کے پاس ملک کو سنبھالنے کا کوئی ٹھوس اور واضح پلان نہ ہوا، تو وہ بھی سابقہ وزرائے اعظم کی طرح صرف اس سوچ میں راتوں کی نیندیں گنوا بیٹھیں گے کہ آخر نظام کام کیوں نہیں کر رہا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں