برطانیہ: کیئر سٹارمر مستعفی،4سال میں پانچواں وزیر اعظم آئیگا

برطانیہ: کیئر سٹارمر مستعفی،4سال میں پانچواں وزیر اعظم آئیگا

5سالہ مدت پوری کرنیکا خواب چکنا چور ، تقریر کرتے ہوئے سٹارمر کی آواز رندھ گئی سٹارمر کے حریف اینڈی برنہم جولائی کے وسط تک نئے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں دو پارٹی نظام کمزور ، ریفارم پارٹی قدم جما چکی ،سٹارمر زندگی کی بڑی لڑائی ہار گئے

لندن (رائٹرز )برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ اور ملک کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔  جس کے بعد برطانیہ کو چار برس میں اب پانچواں نیا وزیرِاعظم ملے گا۔پیر کو10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر تقریر کرتے ہوئے ان کی آواز رندھ گئی، انہوں نے کہا:"میری پارٹی اب یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا میں 2029 کے اگلے عام انتخابات میں قیادت کے لیے موزوں ترین شخص ہوں؟ میں نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا جواب سن لیا ہے اور میں اسے پورے وقار کے ساتھ قبول کرتا ہوں"۔ ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ رواں برس مئی میں برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسلز کے انتخابات کے نتائج کے بعد زور پکڑ گیا تھا۔ ان نتائج نے برطانوی سیاست کو لڑکھڑا دیا تھا اور ملک کی حکمران لیبر پارٹی تیسرے نمبر پر رہی تھی۔انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود کیئر سٹارمر نے کہا تھا کہ ‘میں ملک کو افراتفری کی صورتحال میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا ۔ اگر کوئی اور امیدوار سامنے نہ آیا تو سٹارمر کے حریف اینڈی برنہم جولائی کے وسط تک نئے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ اگر مقابلہ ہوا تو ستمبر تک نئے قائد ایوان کا فیصلہ ہو جائے گا۔ لیبر پارٹی کے اندر یہ خوف بڑھ رہا تھا کہ اگر سٹارمر سربراہ رہے تو 2029 کے انتخابات میں ریفارم پارٹی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے ۔رائٹرز کے مطابق، سٹارمر کا سب سے بڑا ورثہ شاید برطانیہ کے روایتی دو پارٹی نظام کا کمزور ہونا ۔ دوجماعتیں لیبر پارٹی اور کنزرویٹیو(ٹوری) پارٹی دہائیوں سے سیاست پر چھائی ہوئی تھیں ، تاہم حالیہ مقامی اور علاقائی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ 'ریفارم پارٹی' ملک بھر میں اپنے پاؤں جما چکی ہے ، اور یہی وہ سیاسی چیلنج تھا جسے سٹارمر نے "اپنی زندگی کی سب سے بڑی لڑائی" قرار دیا تھا-ایک ایسی لڑائی، جس میں وہ بالآخر ہار گئے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں