متحدہ عرب امارات کا ملک گیر اتحاد ٹرین نیٹ ورک پاکستان کیلئے ایک مثال
دبئی: (سید مدثر خوشنود سے) عرب امارات نے اپنی تاریخ کا ایک بڑا اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ملک کے پہلے قومی مسافر ریل نیٹ ورک کا اعلان کر دیا ہے، جو ابوظہبی، دبئی، فجیرہ سمیت ساتوں امارات کو ایک جدید اور تیز رفتار ریلوے نظام کے ذریعے آپس میں جوڑے گا۔
اس جدید ریل نیٹ ورک کا مقصد سفری وقت میں نمایاں کمی، شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا، ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا اور مقامی و عالمی سطح پر موبلٹی کے معیار کو بہتر بنانا ہے ، اتحاد ریل مسافر سروس جدید سہولیات، اعلیٰ حفاظتی نظام اور عالمی معیار کی ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوگی، جو متحدہ عرب امارات کے وژن 2030 اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
ریلوے اور انفراسٹرکچر کے ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف یو اے ای کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور سیاحت کو بھی نئی رفتار دے گا، دبئی اور ابوظہبی جیسے بڑے شہروں کے درمیان سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔
پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو اتحاد ریل منصوبہ پاکستان کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے، پاکستان میں بھی جدید مسافر ریل نیٹ ورک، فریٹ کوریڈورز اور اربن ریل منصوبوں کی اشد ضرورت ہے، اس منصوبے کے ذریعے پاکستانی سرمایہ کاروں، انجینئرنگ کمپنیوں اور انفراسٹرکچر ماہرین کے لیے یو اے ای کے ساتھ شراکت داری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی ریلوے اصلاحات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور جدید ٹرانسپورٹ منصوبوں میں یو اے ای جیسے ماڈلز سے سیکھے، تو نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ روزگار، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔