چین نے پاکستان کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کا اقتصادی روڈ میپ متعارف کرا دیا

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، تکنیکی ترقی اور عالمی تعاون کے لیے ایک جامع روڈ میپ قرار دیا۔

وفاقی دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے جیانگ زیڈونگ کا کہنا تھا کہ حکومتی ورک رپورٹ 2026 کے ساتھ منصوبہ بیجنگ کے طویل المدتی ویژن اور عالمی اقتصادی ترقی کی پالیسی سے متعلق درست سمت کی عکاسی کرتی ہے۔

ترقی کے اہداف
انہوں نے کہا کہ نیا پانچ سالہ فریم ورک بین الاقوامی برادری کو’ واضح، مثبت اور پراعتماد اشاریے‘ کی نشاندہی کرتا ہے جس سے مستحکم اور متوقع اقتصادی توسیع کے لیے چین کے عزم کی تصدیق ہوتی ہے، منصوبے کے تحت، ملک کا مقصد آنے والے سالوں میں شرح نمو 4.5 فیصد اور 5 فیصد کے درمیان برقرار رکھنا ہے، چین عالمی معیشت میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا بھر کی ترقی میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ چین کی مجموعی گھریلو پیداوار 2025 میں پہلے ہی 20 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جو اس کی اقتصادی رفتار میں ایک اہم سنگ میل ہے، مستحکم ترقی کا ہدف اعلیٰ معیار کی ترقی کی طرف تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جب کہ پائیداری اور ساختی اصلاحات کے ساتھ توسیع کو متوازن کرتا ہے۔

جدت کی مرکزیت
 جدت کی مرکزیت کو اجاگر کرتے ہوئے جیانگ نے کہا کہ چین ٹیکنالوجی کی قیادت میں ترقی کی طرف اپنی منتقلی کو تیز کر رہا ہے، 2030 تک R&D کی شدت کو GDP کے 3.2 فیصد تک بڑھانے کے منصوبوں کے ساتھ، ملک کے تحقیق اور ترقی کے اخراجات $522.8 بلین تک پہنچ گئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ ایک بڑے ڈرائیور کے طور پر اُبھرا ہے، جس کی مالیت 72.6 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ متعلقہ صنعتیں 290 بلین ڈالر سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، یہ اعداد و شمار جدید ٹیکنالوجیز میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور روایتی ترقی کے ماڈلز پر انحصار کم کرنے کے چین کے عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ خلائی شعبے میں چین نے 2025 میں 60 سے زیادہ لانچیں کیں جو ایرو اسپیس کی صلاحیتوں میں مسلسل پیشرفت کا مظاہرہ کرتی ہیں، اُنہوں نے 2026 میں ایک پاکستانی خلاباز کے چین کے خلائی اسٹیشن مشن میں شامل ہونے کے منصوبے کا بھی انکشاف کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عکاس ہے۔
صنعتی تبدیلی
جیانگ زیڈونگ کا کہنا تھا کہ چین کی صنعتی تبدیلی اس کی نئی انرجی گاڑیوں کی پیداوار میں بھی جھلکتی ہے، جس نے 12 ملین یونٹس کو عبور کر لیا، جس نے عالمی منڈی کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کیا، یہ تیز رفتار توسیع صاف ٹیکنالوجیز اور جدید مینوفیکچرنگ پر بیجنگ کی توجہ کو نمایاں کرتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ملک نے دنیا کا سب سے بڑا 5G نیٹ ورک بھی قائم کیا ہے، جس میں 3.5 ملین سے زیادہ بیس سٹیشنز عالمی انفراسٹرکچر کا 60فیصد سے زیادہ ہیں۔  کہ چین پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی ترقی میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، خاص طور پر اگلی نسل کے انفراسٹرکچر کی توسیع میں،
تجارتی طاقت
سفیر کا کہنا تھا چین کی بیرونی اقتصادی مصروفیت نئے منصوبے کے تحت مضبوط ہے، کل تجارت 6.24 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، ملک کی عالمی برآمدات کا 14 فیصد سے زیادہ حصہ ہے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 174.3 بلین ڈالر رہی، جس میں ہائی ٹیک سیکٹرز نے 35 فیصد رقوم کو اپنی طرف متوجہ کیا جو چین کے ابھرتے ہوئے اقتصادی ماڈل پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت، چین نے 190 ممالک میں 50,000 سے زیادہ کاروباری ادارے قائم کرتے ہوئے اپنے عالمی نقش کو بڑھایا ہے، اس اقدام نے 3,000 سے زیادہ منصوبے فراہم کیے ہیں، تقریباً 420,000 ملازمتیں پیدا کی ہیں اور تقریباً 40 ملین افراد کو غربت سے نکالنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
گرین انرجی پر توجہ
اُن کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی پائیداری 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا ایک اہم ستون ہے، چین کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت 1.6 بلین کلوواٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس کی کل نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 55 فیصد ہے، 2020 کے بعد سے کاربن کے اخراج کی شدت میں 20 فیصد کمی آئی ہے، جو آب و ہوا کے وعدوں اور سبز ترقی میں پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کی مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف

سماجی سرمایہ کاری
سفیرنے کہا کہ چین نے اپنے سماجی شعبے کے اخراجات کو بھی بڑھایا ہے، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم میں 14.47 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، ملک اب دونوں شعبوں میں دنیا کا سب سے بڑا نظام چلا رہا ہے، جس کا مقصد معیار زندگی اور انسانی ترقی کے اشارے کو بہتر بنانا ہے۔

جیانگ زیڈونگ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چین نے بلوچستان میں 70,000 ہیلتھ کٹس کی تقسیم سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے تعاون بڑھایا ہے، جس سے 766 سکولوں کو فائدہ پہنچا ہے، گوادر کے چائنہ پاکستان فرینڈ شپ ہسپتال میں 48,000 سے زائد مریضوں کو طبی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں جو کہ عوامی فلاح و بہبود میں جاری تعاون کی عکاسی کرتی ہیں۔
دو طرفہ تعلقات
اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر ’’ ہر موسم کے تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت دار‘‘ ہیں۔

سفیر کا مزید کہنا تھا کہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے کے تحت ترقیاتی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جسے عام طور پر CPEC 2.0 کہا جاتا ہے، توجہ اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے، معاش کو بہتر بنانے پر مرکوز ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں