نوجوان لڑکی کا گوگل اور میٹا پر مقدمہ، جیوری کے لیے فیصلہ مشکل ہو گیا
لاس اینجلس: (ویب ڈیسک) لاس اینجلس میں سوشل میڈیا کی ایڈکشن سے متعلق ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری نے جج کو آگاہ کیا کہ وہ کسی متفقہ فیصلے تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ مقدمہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل اور میٹا کے خلاف دائر کیا گیا ہے، جن پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین، خصوصاً نوجوانوں کو عادی بنانے کے الزامات ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جیوری نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کس کمپنی کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے، مقدمہ ایک نوجوان خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا، جس کا مؤقف ہے کہ وہ کم عمری میں یوٹیوب اور انسٹاگرام کی عادی ہو گئی تھیں۔
جیوری گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے اس کیس پر غور کر رہی ہے، تاہم اب تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی، صورتحال کے پیش نظر جج کیرولین بی کوہل نے جیوری کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے متفقہ فیصلہ دیں، بصورت دیگر مقدمے کی سماعت نئے سرے سے کرنا پڑ سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کے فیصلے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کا اثر ان ہزاروں دیگر مقدمات پر بھی پڑ سکتا ہے جو والدین، وکلاء اور تعلیمی اداروں کی جانب سے ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف دائر کیے جا چکے ہیں۔
اگر جیوری کسی نتیجے پر پہنچتی ہے تو یہ فیصلہ مستقبل میں سوشل میڈیا کے استعمال اور ٹیک کمپنیوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ فی الحال سب کی نظریں جیوری کے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں۔