اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کو دنیا چھوڑے 22 برس بیت گئے

کراچی: (دنیا نیوز) اردو ادب کی نامور شاعرہ ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

معروف شاعرہ شبنم شکیل نے اردو ادب میں غزل اور نظم دونوں سے اصناف میں اپنی پہچان دی اور خواتین کے جذبات و مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا، شبنم شکیل کا اسلوب سادہ مگر پر اثر اور قاری کے دل میں گھر کرلیتا ہے۔

انہوں نے ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی جبکہ متعدد کالجوں میں بطور لیکچرار کام کیا، ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین 1965ء میں شائع ہوئی۔

انہوں نے ادب میں متعدد ایوارڈ اور اعزازت جیتے، جن میں 2005ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی شامل تھا، ان کے شعری مجموعے، مضامین اور افسانوں پر مشتمل کتابیں شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے شائع ہوئیں۔

شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کرگئیں اور اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں