فلمی ادارے میں احتجاج پر نصیرالدین شاہ کی حمایت، بی جے پی کا تحقیقات کا مطالبہ

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ کی جانب سے کولکتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے احتجاجی طلبہ کی حمایت کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، اداکار کے بیانات اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہے ہیں، جس سے طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔

نصیرالدین شاہ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا تھا کہ مغربی بنگال کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں سے انتقام لے رہی ہے۔

ان کے بقول، پارٹی مستقبل کے فلم سازوں کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے یا خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور ترجمان راہول سنہا نے اداکار کے بیان کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے تبصرے کسی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر بھی جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوششوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

دوسری جانب، وزارت اطلاعات و نشریات کے تحت کام کرنے والے ادارے ایس آر ایف ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، کیمپس میں کشیدگی کا آغاز 27 ستمبر کو ہوا، جب احتجاج کرنے والے طلبہ ایک تقریب کے دوران مرکزی آڈیٹوریم میں داخل ہوئے، جس کے نتیجے میں ہاتھا پائی اور توڑ پھوڑ ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق، 4 اکتوبر کو تقریباً 250 طلبہ نے وائس چانسلر سنتوش اجمیرا کو مرکزی دروازے پر رات 11 بجے تک محصور رکھا۔

بعد ازاں 50 سے 60 طلبہ نے تقریباً 2 روز تک ان کے دفتر پر قبضہ کیے رکھا۔ 15 اکتوبر کو ایک طالب علم پر وائس چانسلر کے ساتھ بدسلوکی کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ اگلے روز ان کے دفتر پر پتھراؤ کیا گیا۔

ادارے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بعض طلبہ نے سیکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی مخالفت کی، انتظامیہ نے سیکیورٹی بڑھانے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کیے، حفاظتی اقدامات کیے اور نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔

ادارے نے مبینہ بدانتظامی پر 6 طلبہ کو ایک سال کے لیے خارج کر دیا ہے، جبکہ محفوظ تعلیمی ماحول کی بحالی کے لیے کلاسز 13 نومبر تک معطل کر دی گئی ہیں۔


دوسری جانب فلم ساز پائل کپاڈیا نے بھی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے تادیبی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو ان مبینہ حملوں کے بعد سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جنہیں بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک گروہوں سے جوڑا گیا ہے۔

یوں فلمی ادارے میں احتجاج اور انتظامیہ کی کارروائیوں نے سیاسی اور فلمی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...