نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیابلدیاتی نظام سندھ پرمسلط کرنےکی کوشش کی جارہی ہے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- کیا پیپلزپارٹی کےآنےسےپہلےسندھ کی یہی حالت تھی؟خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- کراچی کےخون پسینےکی کمائی سےملک چلتاہے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی سندھ کےشہری علاقوں کی نمائندہ جماعت کبھی نہیں رہی،خالدمقبول
  • بریکنگ :- سندھ کےشہری علاقوں کیساتھ مسلسل ناانصافی ہورہی ہے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- سندھ کےشہری علاقوں کیساتھ ناانصافی بندکی جائے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ہمارےپاس سڑکوں پرآنےکےسواکوئی آپشن نہیں،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- کیاشہری علاقوں کوتباہ کرنےکاقومی اتفاق رائےپایاجاتاہے؟خالدمقبول
  • بریکنگ :- کراچی:آئین پرشب خون ماراجارہاہے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- آئین وقانون کےمطابق جوراستےاختیارکرسکتےہیں وہ کریں گے،خالدمقبول
Coronavirus Updates

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سرعام سزائے موت کی مخالفت کر دی

پاکستان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سرعام سزائے موت کی مخالفت کر دی۔

فروغ نسیم نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا سر عام پھانسی اسلامی تعلیمات اور آئین کے منافی ہے، 1994 میں سپریم کورٹ سرعام پھانسی کی سزا کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے، سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ سرعام پھانسی آئین کیساتھ شریعت کی بھی خلاف ورزی ہے، وزارت قانون آئین اور شریعت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔

 خیال رہے گزشتہ روز قومی اسمبلی نے بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کی تھی۔ پیپلز پارٹی، حکومتی وزیر فواد چودھری اور شیریں مزاری نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات روکنے کیلئے قرار داد پیش کی جس کے متن میں کہا گیا کہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والوں کو سرِعام پھانسی دی جائے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں