نامور صوفی شاعر، ادیب واصف علی واصف کی 33ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
لاہور: (دنیا نیوز) درس و تدریس کے ساتھ ساتھ روحانیت کے ماہر کے طور پر شہرت حاصل کرنے والے نامور صوفی شاعر اور ادیب واصف علی واصف کی 33ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
واصف علی واصف کی تصانیف، شاعری اور اقوال ہمیں ازلی حقیقتوں سے آشکار کرتے نظر آتے ہیں، درویش صفت انسان واصف علی واصف 15 جنوری 1929ء کو شاہ پور خوشاب میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان سے پہلے واصف علی واصف نے قائداعظم کے زیر نگرانی امرتسر میں مسلم لیگ کیلئے کام کیا۔
انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا، واصف علی واصف کو 1948ء میں ہاکی میں حسنِ کارکردگی پر ”کالج کلر“ سے نوازا گیا، انہوں 1954ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا اور معلم کا پیشہ اپنایا تاہم درویشی کے میلان کی وجہ سے سرکاری نوکری کو خیر باد کہہ کر پرائیویٹ پڑھانا شروع کر دیا۔
1978ء میں ’’شبِ چراغ‘‘ کے نام سے واصف علی واصف کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہوا، محبت کے نام سے روزنامہ نوائے وقت میں کالم بھی لکھتے رہے، واصف علی واصف کی مشہور تصانیف میں حرف حرف حقیقت، قطرہ قطرہ قلزم، دل دریا سمندر، بات سے بات، گمنام ادیب، ذکر حبیب اور بھرے بھڑولے شامل ہیں۔
واصف علی واصف 18 جنوری 1993ء کو خالقِ حقیقی سے جا ملے، لیکن ان کے اقوال دلوں کو آج بھی جذبہ تازہ بخش رہے ہیں۔