یہ کوئی ایمرجنسی نہیں ہے شادی والے دن ملازم کو کام سے ریلیف نہ مل سکا
لاہور: (ویب ڈیسک) بعض اوقات دفتر کی دنیا اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ ملازمین کے خاص ترین ذاتی معاملات بھی پروجیکٹ کی ترجیح کے سامنے کمزور لگنے لگتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ملازم نے سوشل میڈیا پر اپنی ایسی ہی پریشانی کا ذکر کیا، جب اس کے باس نے اسے شادی سے پہلے ایک انتہائی مشکل پروجیکٹ پر کام کرنےکو کہا۔
ملازم کے مطابق دفتر میں ہر کام کو اہم قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کام سے متعلق واضح رہنمائی یا منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ کئی مینیجرز ایک ساتھ ہدایات دیتے ہیں، مگر کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ روزانہ کی بنیاد پر مائیکرو مینجمنٹ معمول بن چکی ہے، جس میں ہر وقت زوم کالز اور گھنٹہ بہ گھنٹہ اپڈیٹس شامل ہیں، لیکن اعتماد نہیں ہوتا۔
ملازم کا کہنا تھا کہ کمپنی نے فاصلے کی پابندی بھی نافذ کر دی ہے، جس کے مطابق کوئی بھی 120 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر کام نہیں کر سکتا۔ اس کے قیادت کرنے والے مینیجرز نہ تو آن سائٹ مددگار ہیں اور نہ آف سائٹ، بس مینجمنٹ کی خوشنودی میں مصروف رہتے ہیں۔
ملازم نے بتایا کہ اس نے شادی کے بارے میں دو ماہ قبل ہی اپنے مینیجرز کو اطلاع دے چکا تھا، لیکن پروجیکٹ لیڈرز نے اسے نظرانداز کیا اور توقع کی کہ وہ ویک اینڈ پربھی کام کرے گا۔
سینئر پروجیکٹ مینیجر نے تو یہ تک کہا کہ ”شادی ایمرجنسی نہیں ہے، یہ صورتحال ملازم کے لیے زیادہ مشکل ہے کیونکہ اسے مارچ میں پروجیکٹ سے ریلیز ہونا ہے اور شادی کو موخر نہیں کیا جا سکتا۔ ملازم نے کہا کہ وہ اس الجھن سے نہیں نکل پا رہا کہ اب کیا کرے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے اس صورتحال پر گہری دلچسپی دکھائی۔ ایک صارف نے لکھا کہ جب ہر چیز اہم ہے تو اصل میں کوئی چیز اہم نہیں۔ ایک اور صارف نے مشورہ دیا کہ اگر مالی حالات اجازت دیتے ہیں تو کچھ وقت ملازمت سے وقفہ لے کر شادی پر توجہ دی جائے، تاکہ بعد میں کسی قسم کا پچھتاوا نہ ہو۔
کچھ صارفین نے اپنے مثبت تجربات بھی شیئر کیے، ایک صارف نے لکھا کہ ان کے باس نے غلطی سے ان کے منگنی کے دن کام کے لیے کال کر دی، مگر جیسے ہی معلوم ہوا، فوراً معذرت کی اور کہا کہ دن کا لطف اٹھائیں۔