تاریخی الیکشن 2026 اور بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ پر ایک نظر!
ڈھاکہ : (ویب ڈیسک) بنگلہ دیش 12 فروری 2026 (جمعرات) کو انتخابات کی طرف جا رہا ہے، جنہیں ملک کی 55 سالہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ انتخابات اگست 2024 میں وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو ان کی حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے نتیجے میں برطرف ہوئیں، اس بغاوت میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے، شیخ حسینہ 1996 سے 2001 اور پھر 2009 سے 2024 تک اقتدار میں رہیں۔
ان کی برطرفی کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس عبوری حکومت کی قیادت کر رہے ہیں، جن کا مقصد شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرانا ہے۔
ووٹرز کا جائزہ
بنگلہ دیش کی آبادی 17 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ہے، جو اسے دنیا کا آٹھواں بڑا آبادی والا ملک بناتی ہے، تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ شہری ووٹ کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جن میں تقریباً 50 لاکھ پہلی بار ووٹ دینے والے شامل ہیں، تقریباً 44 فیصد ووٹرز کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے، جو ملک میں نوجوان آبادی کے بڑے تناسب کو ظاہر کرتی ہے۔
الیکشن میں دارالحکومت ڈھاکہ کا کردار
بنگلہ دیش دنیا کے گنجان آباد ممالک میں شامل ہے، جہاں فی مربع کلومیٹر 1366 افراد رہتے ہیں، دارالحکومت ڈھاکہ، جہاں 3 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد رہتے ہیں، انتخابات کے نتائج پر اہم اثر ڈالے گا، ملک کی اکثریت مسلمان ہے، جو آبادی کا 90 فیصد سے زیادہ ہیں جبکہ ہندو تقریباً 8 فیصد اور دیگر مذاہب باقی آبادی پر مشتمل ہیں۔
فی کس آمدنی
معاشی طور پر بنگلہ دیش نے گزشتہ 25 برس میں تیز ترقی کی، تاہم مالی سال جون 2025 میں ختم ہونے تک معاشی شرح نمو کم ہو کر 3.97 فیصد رہ گئی، جو اس سے پہلے 4.22 فیصد تھی۔
ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) 461 ارب ڈالر ہے جبکہ فی کس آمدنی تقریباً 1990 ڈالر ہے، جو غربت کے خاتمے اور معاشی تنوع کے چیلنجز کو ظاہر کرتی ہے۔
حکومتی نظام
بنگلہ دیش ایک پارلیمانی جمہوریہ ہے، انتظامی اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں جو کابینہ مقرر کرتے ہیں، پالیسی بناتے ہیں اور سرکاری نظام کی نگرانی کرتے ہیں، صدر ملک کا رسمی سربراہ ہوتا ہے، جسے پارلیمنٹ پانچ سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔
قانون سازی کا اختیار 350 رکنی قومی اسمبلی (جاتیہ سنگساد) کے پاس ہے، جس میں 300 نشستیں براہ راست منتخب ہوتی ہیں، 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوتی ہیں، انتظامی طور پر ملک کو 8 ڈویژنز، 64 اضلاع اور 495 تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
سیاسی جماعتیں اور اتحاد
اس الیکشن میں 51 جماعتیں مجموعی طور پر 1981 نشستوں پر مقابلہ کر رہی ہیں جبکہ 249 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں، شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ معطل ہے اور الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی، جو ایک بڑی سیاسی تبدیلی ہے۔
بی این پی کی قیادت میں اتحاد
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جس کی قیادت سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان کر رہے ہیں، 300 میں سے 292 براہِ راست منتخب نشستوں پر الیکشن لڑ رہی ہے، اس اتحاد میں نصف درجن سے زائد چھوٹی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔
بی این پی کی انتخابی مہم کا مرکز کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی معاونت، وزیراعظم کے عہدے کی مدت کو دس سال تک محدود کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینا، اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے، جو کئی دہائیوں سے عوامی لیگ کے غلبے کے بعد عوام کی تبدیلی کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔
جماعتِ اسلامی کا 11 جماعتی اتحاد
جماعتِ اسلامی کی قیادت شفیق الرحمان کر رہے ہیں، نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ساتھ اتحاد کیا ہے، جو 2024 کی تحریک کے نوجوان رہنماؤں کی جانب سے قائم کی گئی ایک معتدل سیاسی جماعت ہے۔
یہ اتحاد جماعتِ اسلامی کے تحت 224 نشستوں اور این سی پی کے تحت 30 نشستوں پر الیکشن لڑ رہا ہے جبکہ باقی نشستیں چھوٹی جماعتوں کو دی گئی ہیں۔
یہ اتحاد اسلامی اصولوں پر مبنی حکمرانی، گارمنٹس صنعت کے علاوہ معیشت میں تنوع پیدا کرنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اتحاد مکمل اکثریت حاصل نہ بھی کر سکے تو بھی پارلیمنٹ کی سیاست پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
دیگر شریک جماعتیں
دیگر حصہ لینے والی جماعتوں میں جاتیہ پارٹی کے دھڑے (جے پی-قادر اور جے پی-ارشاد)، لیفٹ ڈیموکریٹک الائنس اور امر بنگلہ دیش پارٹی شامل ہیں، جو اُن ووٹرز کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو روایتی اور مضبوط سیاسی نظام کے مقابلے میں اصلاحات پر مبنی متبادل چاہتے ہیں۔
سابق حکومتیں
بنگلہ دیش کی سیاسی ترقی بغاوتوں، قتل و غارت اور فوجی و سویلین حکومتوں کے ادوار کے درمیان تبدیلیوں سے متاثر رہی ہے۔ ملک کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمان کو 1975 میں قتل کر دیا گیا، جس کے بعد کئی سال تک فوجی حکمرانی رہی۔
ضیاء الرحمان، جو بی این پی کے بانی تھے، 1981 میں اپنے قتل تک صدر کے عہدے پر فائز رہے، جبکہ حسین محمد ارشاد نے 1982 سے 1990 تک فوجی آمریت قائم رکھی۔
1991 میں جمہوریت بحال ہوئی اور خالدہ ضیاء ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، اس کے بعد اگلے دو عشروں تک شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء باری باری اقتدار میں آتی رہیں۔
2009 سے شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے سیاسی غلبہ مضبوط کیا، جس نے 2018 میں 300 اور 2024 میں 272 نشستیں جیتیں، ان انتخابات پر اپوزیشن کو دبانے اور شفافیت کی کمی کے الزامات بھی لگائے گئے۔
2026 کے انتخابات ایک اہم موڑ سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ کئی دہائیوں میں پہلی بار دو بڑی سیاسی جماعتیں شیخ حسینہ کی شمولیت کے بغیر مقابلہ کریں گی جبکہ لاکھوں نئے اور نوجوان ووٹرز کی شمولیت کے باعث نتائج بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔