بجلی کے ترسیلی نقصانات 600 ارب روپے سے تجاوز کر جانے کا انکشاف
اسلام آباد: (دنیا نیوز) دو سال میں بجلی کے ترسیلی نقصانات 600 ارب روپے سے تجاوز کر جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
دسمبر 2025 تک ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کی استعداد 7 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گئی، ملک بھر میں بجلی کے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2 کروڑ 15 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی۔
قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے تحریری جوابات جمع کرا دیئے۔
حکومت نے ملک بھر کے 12 ہزار 665 فیڈرز میں سے 2ہزار 223 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ کا اعتراف کیا ہے۔
کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 814 میں سے 604 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ ہے، سیپکو کے 707 میں سے 407 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ ہے۔
ٹیسکو کے 357 میں سے 174، پیسکو کے 1376 میں سے 642 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔
حیسکو کے 747 میں سے 322، ہزارہ الیکٹرک کمپنی کے 286 میں سے 37 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
لیسکو، آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کے کسی فیڈر پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ نہیں ہے۔
جولائی سے دسمبر 2025 کے درمیان بجلی صارفین نے آٹھ ارب 78 کروڑ 7 لاکھ 111 یونٹ بجلی استعمال کی۔
11 تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کی مجموعی تعداد تین کروڑ 92 لاکھ 20 ہزار 38 ہے، ملک بھر میں بجلی کے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2 کروڑ 15 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی، اکتوبر 2021 میں پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 95 لاکھ تھی۔
تحریری جواب کے مطابق دسمبر 2025 تک ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کی استعداد 7 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گئی، آف گرڈ سولر کی استعداد 12.62 میگا واٹ تک پہنچ گئی۔
دو سال میں بجلی کے ترسیلی نقصانات 600 ارب روپے سے تجاوز کر جانے کا انکشاف ہوا، مالی سال 25-2024 میں بجلی کے ترسیلی نقصانات 284 ارب روپے رہے، مالی سال 24-2023 میں ترسیلی نقصانات 322 ارب روپے تھے۔
تحریری جواب کے مطابق پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ترسیلی نقصانات 96 ارب روپے تک پہنچ گئے، کیسکو 51، لیسکو 46 ارب، سیپکو 37 ارب جبکہ حیسکو کے ترسیلی نقصانات 22 ارب روپے ہیں۔