معاشی استحکام، ٹیکس نیٹ میں وسعت ہدف ہے: وزیر خزانہ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا ہدف معاشی استحکام، ٹیکس نیٹ میں وسعت اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس نظام سے محصولات میں بہتری آئی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی برٹش امریکن ٹوبیکو (بی اے ٹی) وفد سے ملاقات ہوئی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ بوم اینڈ بسٹ سائیکل کا خاتمہ مالی نظم و ضبط سے ممکن ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ تمام شعبوں میں ٹیکس تعمیل بہتر بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمہ پر توجہ مرکوز ہے، ایف بی آر اصلاحات میں اے آئی بیسڈ سی آر ایم اور پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم شامل ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ چینی، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹیکسٹائل اور بیوریجز سیکٹر میں نفاذ سخت کیا گیا، غیر قانونی سگریٹ سازی اور سمگلنگ کے خلاف ریکارڈ کارروائیاں کی گئی ہیں۔

اس موقع پر وفد کو بریفنگ دی گئی کہ کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور صوبائی اداروں کی مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں، بی اے ٹی وفد نے ایکسائز ڈیوٹی میں استحکام اور پالیسی تسلسل پر زور دیا۔

ملاقات میں غیر قانونی اور قانونی مصنوعات کے درمیان قیمتوں کے فرق پر تشویش کا اظہار کیا گیا، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں پاکستانی تمباکو کی برآمدی مواقع پر گفتگو کی گئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدی مسابقت کیلئے مسابقتی فصل قیمت اور ریگولیٹری ہم آہنگی ضروری ہے، محصولات میں اضافہ مالی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی بہتری کیلئے تعمیری مشاورت جاری رکھے گی، گزشتہ دو برس میں مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری ہوئی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی طویل مدتی حکمت عملی برآمدات میں اضافے پر مرکوز ہے، ملاقات میں ٹوبیکو اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر زور دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں