جیل میں زندگی گزارنے کا تجربہ حاصل کرنے کی پیشکش

حیدرآباد: (ویب ڈیسک) بھارتی شہر حیدرآباد کی تاریخی چنچل گوڑا سینٹرل جیل میں اب عام شہری بھی قیدیوں جیسی زندگی گزار سکیں گے، مگر اس کے لیے انہیں باقاعدہ فیس ادا کرنا ہوگی۔

تلنگانہ جیل حکام نے فیل دی جیل کے نام سے ایک منفرد پروگرام متعارف کرایا ہے جس کے تحت لوگ 12 یا 24 گھنٹوں کے لیے جیل کے ماحول میں رہ سکیں گے، اس دوران شرکا کو قیدیوں کی طرح مخصوص بیرکوں میں رکھا جائے گا، وہی سادہ جیل کا کھانا دیا جائے گا اور روزمرہ معمولات بھی جیل کے قواعد کے مطابق ہوں گے۔

حکام کے مطابق 24 گھنٹے جیل میں گزارنے کے خواہش مند افراد کو دو ہزار انڈین روپے ادا کرنا ہوں گے جبکہ 12 گھنٹوں کے مختصر تجربے کے لیے ایک ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے، اس منصوبے کا مقصد لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، کو جیل کی سخت زندگی، قانون کی اہمیت اور آزادی کی اصل قدر سے آگاہ کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ فلموں یا سوشل میڈیا کی وجہ سے جیل کی زندگی کو سنسنی خیز سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، فیل دی جیل پروگرام کے ذریعے شہری عملی طور پر محسوس کر سکیں گے کہ قید کی زندگی کتنی محدود اور کٹھن ہوتی ہے۔

اسی موقع پر چنچل گوڑا میں قائم نئے جیل میوزیم کا بھی افتتاح کیا گیا، جہاں نظام دور سے لے کر جدید اصلاحی نظام تک جیلوں کی تاریخ کو دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے، میوزیم میں پرانی ہتھکڑیاں، بیڑیاں، قیدیوں کے زیر استعمال سامان، تاریخی بیرکیں اور مختلف ادوار کی تصاویر رکھی گئی ہیں۔

میوزیم میں معروف شخصیات بھکتا راماداسو اور داسارتھی کرشنماچاریولو سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں، جب کہ ناگرجنا ساگر ڈیم کی تعمیر میں قیدیوں کے کردار کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ سنگا ریڈی کے مشہور ون ڈے جیل ایکسپیرینس سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے، جس نے گزشتہ برسوں میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کی تھی۔

افتتاحی تقریب میں گورشیو پرتاپ شکلا نے کہا کہ جدید جیلیں صرف سزا دینے کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح اور نئی شروعات کے مراکز بھی ہیں، ایک بہتر معاشرہ وہی ہوتا ہے جو سزا کے ساتھ بحالی اور دوسرا موقع دینے کے تصور کو بھی اہمیت دے۔

تلنگانہ جیل کے ڈی جی پی سومیا مشرا نے کہا کہ فیل دی جیل پروگرام عوام کو جیل کے نظام، قیدیوں کی بحالی اور اصلاحی اقدامات کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پروگرام کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کی بڑی تعداد نے حیرت اور تجسس کا اظہار کیا ہے، کچھ صارفین نے اسے منفرد تجربہ قرار دیا، جبکہ کئی افراد کا کہنا تھا کہ چند گھنٹے جیل میں گزارنا شاید لوگوں کو آزادی کی اصل اہمیت سمجھانے میں مدد دے سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں