اسد قیصر کا 19 جولائی کو بارڈرز پر تجارت کے ایشو پر جرگہ بلانے کا اعلان

پشاور: (دنیا نیوز) سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے 19 جولائی کو بارڈرز پر تجارت کے ایشو پر جرگہ بلانے کا اعلان کردیا۔

پشاور میں تاجروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرکے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے، کیونکہ موجودہ حالات میں یہ صرف سیاست نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے دور میں غلام خان، انگور اڈا اور طورخم بارڈرز پر سہولیات میں اضافہ کیا گیا جبکہ افغانستان کے ساتھ برآمدات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ جب تک افغانستان اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بحال نہیں ہوتی، تاجروں کی معاشی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔

اسد قیصر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس وقت بھارت کے ساتھ تجارت مکمل طور پر بند ہے، تنازعات اپنی جگہ لیکن تاجروں کو سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے، وزیراعظم سے حالیہ ملاقات میں فاٹا پاٹا پر ٹیکسوں کے نفاذ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو سفارتی سطح پر بہتر بنا کر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہونے دی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا پاٹا کے تاجروں اور عوام کے حالات پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ بیشتر بارڈرز بند ہیں، ایسے میں پشاور کا تاجر لاہور اور کراچی کے تاجروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا،دہشت گردی اور بارڈرز سے متعلق معاملات پالیسی ایشوز ہیں جن کے مستقل حل کی ضرورت ہے۔

رہنما تحریک اںصاف نے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں ایسی شق شامل کی گئی تھی جس کے تحت پاکستانی ٹرانسپورٹ کو وسطی ایشیا تک رسائی مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرائی پورٹ کی مکمل فعالیت کے بغیر تاجروں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سب سے زیادہ فنڈز پولیس کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاق پر خیبرپختونخوا کے 434 ارب روپے واجب الادا ہیں،انہوں نے اعلان کیا کہ بارڈرز سے متعلق مسائل پر 19 جولائی کو جرگہ بلایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بلوچستان میں کسانوں، تاجروں اور مختلف طبقات سے بھی ملاقاتیں کریں گے، انہیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ان کے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل کے حل کے لیے جامع پالیسیاں مرتب کی جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں